Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 15:58 Prev 15:56


Arabic

قَالَ فَمَا خَطۡبُكُمۡ أَيُّهَا ٱلۡمُرۡسَلُونَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

پھر ابراہیمؑ نے پوچھا “اے فرستادگان الٰہی، وہ مہم کیا ہے جس پر آپ حضرات تشریف لائے ہیں؟


English (Sahih International)

[Abraham] said, “Then what is your business [here], O messengers


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

This commentary covers ayaat 57 to 61.

آیت 57 قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ اَيُّهَا الْمُرْسَلُوْنَ اب حضرت ابراہیم نے ان سے پوچھ ہی لیا کہ آپ لوگوں کے یہاں آنے کا کیا مقصد ہے ؟ آپ کو کیا مہم درپیش ہے ؟


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 57 to 60.

حضرت ابراہیم فلسطین میں رہتے تھے۔ اس کے قریب ہی بحر مردار کے کنارے آپ کے بھتیجے حضرت لوط تھے۔ حضرت لوط نے اس علاقہ میں بسنے والوں پر تبلیغ کی۔ مگر وہ اصلاح قبول کرنے پر راضی نہ ہوئے۔ ان کی سرکشی بڑھتی چلی گئی۔ یہاںتک کہ خدا کا فیصلہ یہ ہوا کہ ان کو ہلاک کردیا جائے۔ یہ فرشتے اسی خدائی فیصلہ کے نفاذ کے لیے آئے تھے۔

غالباً حضرت لوط کے چند اہل خاندان کے سوا اور کوئی شخص ان پر ایمان نہ لایا۔ گھر سے باہر والوں کے لیے داعی حق کو قبول کرنا بہت مشکل ہوتاہے۔ کیوںکہ ان کے لیے بہت سی نفسیاتی رکاوٹیں حائل ہوجاتی ہے۔ تاہم خود اپنے خونی رشتہ داروں کے لیے یہ رکاوٹیں نہیں ہوتیں۔ چنانچہ لوگ نسبتاً زیادہ آسانی کے ساتھ داعئ حق کے ساتھی بن جاتے ہیں۔

حضرت لوط کے ساتھ ایسا ہی ہوا۔ آپ کی دعوت پر غالباً صرف آپ کی لڑکیاںایمان لائیں۔ اولاد کو اپنے باپ سے جو خصوصی تعلق ہوتا ہے، وہ باپ کی دعوت کو قبول کرنے میں خصوصی مدد گار بن جاتا ہے۔ ان لڑکیوں نے حضرت لوط کے ساتھ نجات پائی۔ مگر آپ کی بیوی دل سے آپ کی مومن نہ بن سکی۔ چنانچہ اس کو دوسرے مجرموں کے ساتھ ہلاک کردیاگیا۔ خدا کے قانون میں محض رشتہ داری کی بنیاد پر کسی کے ساتھ کوئی رعایت نہیں کی جاتی۔


Connections

  • Previous: 15_56
  • Next: 15_58
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes