Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
قَالَ هَٰذَا صِرَٰطٌ عَلَيَّ مُسۡتَقِيمٌ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
فرمایا “یہ راستہ ہے جو سیدھا مجھ تک پہنچتا ہے
English (Sahih International)
[Allah] said, “This is a path [of return] to Me [that is] straight
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 41 قَالَ ھٰذَا صِرَاطٌ عَلَيَّ مُسْتَــقِيْمٌیعنی میرے اور تمہارے درمیان یہ معاملہ طے ہوگیا تمہیں مہلت دے دی گئی۔ مجھ تک پہنچنے کا راستہ بالکل واضح ہے۔ تم اولاد آدم کو اس راستے سے بہکانے کے لیے اپنا زور آزما لو۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 41 to 44.
صراطِ مستقیم کی تشریح مجاہد اور حسن اور قتادہ سے یہ مروی ہے کہ اس سے مراد حق کا راستہ ہے جو اللہ کی طرف نکلتاہے اور اسی پر ختم ہوتاہے (طَرِيقُ الْحَقِّ مَرْجِعُهَا إِلَى اللهِ تَعَالَى، وَإِلَيْهِ تَنْتَهِي) تفسیر ابن کثیر، جلد4، صفحہ
535
۔ اگر آدمی شرک کی راہِ چلے تو وہ راہ خدا تک نہیں پہنچے گی بلکہ شریکوں تک پہنچے گی۔ وہ اگر سرکشی کا طریقہ اختیار کرے تو اس کی منزل آدمی کا اپنا وجود ہوگا،نہ کہ خدا۔ اگر وہ بے قید ہو کر زندگی گزارے تو وہ مختلف سمتوںمیں بھٹکے گا۔ اس کا سفر خدا پر منتہیٰ نہیں ہوسکتا۔
مگر جب آدمی صرف خداکو اپنا مرکز توجہ بناتاہے اوراسی کو سب کچھ سمجھ کر اپنی زندگی کو خدا کے رخ پر چلاتا ہے تو بالکل قدرتی بات ہے کہ اس کا سفر خدا کی طرف جاری ہو اور بالآخر وہ خدا تک پہنچ جائے۔ خدا قادر ہے اور انسان عاجز۔ اس لیے خدا اور بندے کے درمیان ایک ہی صحیح نسبت ہے اور وہ عبدیت کی نسبت ہے۔ عبدیت کی روش اختیار کرنا خداکے ساتھ اپنی صحیح ترین نسبت کو پالینا ہے ۔ جس شخص کی نسبت خدا کے ساتھ قائم ہوجائے اس پر شیطان کا ز ور نہیں چلتا۔ اور جس نے خدا کے ساتھ اپنی نسبت قائم نہ کی، اس کی نسبت شیطان کے ساتھ قائم ہوجاتی ہے۔ پھر وہ شیطان کے مشوروں پر چلنے لگتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ پہنچ جاتاہے جہاں بالآخر شیطان کو پہنچنا ہے۔
جہنم جو شیطان اور اس کے ساتھیوں کا آخری ٹھکانا ہے،اس کے سات درجے ہیں۔ (قَالَ عِكْرمة ’’سَبْعَةُ أَبْوَابٍ‘‘ سَبْعَةُ أَطْبَاقٍ) تفسیر ابن کثیر، جلد4، صفحہ
536
۔ جہنمی لوگ اپنے اعمال کے فرق کے لحاظ سے سات بڑے گروہوں میں تقسیم کيے جائیں گے اور اس کے مطابق جہنم کے سات طبقات میں سے کسی ایک طبقہ میں جگہ پائیں گے۔