Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 15:22 Prev 15:20


Arabic

وَإِن مِّن شَيۡءٍ إِلَّا عِندَنَا خَزَآئِنُهُۥ وَمَا نُنَزِّلُهُۥٓ إِلَّا بِقَدَرٖ مَّعۡلُومٖ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

کوئی چیز ایسی نہیں جس کے خزانے ہمارے پاس نہ ہوں، اور جس چیز کو بھی ہم نازل کرتے ہیں ایک مقرر مقدار میں نازل کرتے ہیں


English (Sahih International)

And there is not a thing but that with Us are its depositories, and We do not send it down except according to a known measure


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 21 وَاِنْ مِّنْ شَيْءٍ اِلَّا عِنْدَنَا خَزَاۗىِٕنُهٗ کوئی شے ایسی نہیں ہے جس کے خزانے ہمارے پاس نہ ہوں۔ ہمارے خزانے اور وسائل لامحدود ہیں ‘ لیکن :وَمَا نُنَزِّلُهٗٓ اِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُوْمٍ ان لامتناہی اور لا محدود خزانوں سے صرف ضرورت کے مطابق اشیاء دنیا میں بھیجی جاتی ہیں۔ جیسے ہمارے ہاں بڑے بڑے گوداموں سے ضرورت کے مطابق چیزوں کی ترسیل کی جاتی ہے۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 21 and 22.

حد بندی کا اصول کائنا ت کی تمام چیزوں میں رائج ہے۔ ہوا ایک حد کے اندر چلتی ہے، حالانکہ خدا کبھی کبھی دکھاتا ہے کہ وہ آندھی بھی بن سکتی ہے۔ سورج ایک خاص فاصلہ پر ہے۔ اگر وہ اس سے اوپر چلا جائے تو زمین برف کی طرح جم جائے۔ سورج نیچے آجائے تو زمین جلتی ہوئی بھٹی بن جائے۔ زمین کی کشش نہایت موزوں مقدار میں ہے۔ اگر زمین کی جسامت دگنا ہوتی تو اس کی کشش اتنی بڑھ جاتی کہ بوجھ کی وجہ سے آدمی کے لیے زمین پر چلنا مشکل ہوتا۔ اور اگر زمین کی جسامت موجودہ جسامت سے نصف کے بقدر کم ہوتی تو اس کی کشش اتنی گھٹ جاتی کہ آدمی اور اس کے مکانات ہلکے پن کی وجہ سے زمین پر ٹھہر نہ سکتے۔ یہی حال ان تمام چیزوں کا ہے جن کے درمیان انسان رہتا ہے۔ ہر چیز کا ایک اندازہ مقرر ہے وہ نہ اس سے گھٹتاہے اور نہ اس سے بڑھتاہے۔

زمین پر انسان اور تمام جانداروں کی زندگی کا انحصار پانی پر ہے۔ زیرِ زمین پانی کے ذخیروں سے لے کر فضائی بادلوں تک پانی کی فراہمی کا نظام اتنے عجیب اور اتنے عظیم پیمانے پر ہے جس کا قائم کرنا ہرگز انسان کے بس میں نہیں۔ اس عجیب اور عظیم انتظام کو خدا مسلسل عین انسانی ضرورت کے مطابق قائم کيے ہوئے ہے۔

انسان ایک بے حدنازک مخلوق ہے۔ اس کے ماحول میں کوئی فرق اس کی پوری ہستی کو تہ وبالا کردینے کے لیے کافی ہے۔ ایسی حالت میں بے شمار اجزاء کی ایک کائنات، لاتعداد امکانات کا حامل ہونے کے باوجود، عین اسی مخصوص امکانی انداز ے پر قائم ہے جو انسان جیسی ایک مخلوق کے لیے مناسب ہے۔ یہ اعتدال اور تناسب ہر گز اتفاقی نہیں ہوسکتا۔ یقیناً اس کا کوئی زبردست خالق اور ناظم ہے۔ ایسی حالت میں جو شخص خدا کو نہ مانے یا خدا کو مان کر اس کا شریک ٹھہرائے وہ صرف اپنے غیر معقول ہونے کا ثبوت دیتا ہے، نہ کہ عقیدۂ توحید کے غیر معقول ہونے کا۔


Connections

  • Previous: 15_20
  • Next: 15_22
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes