Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَٱلۡأَرۡضَ مَدَدۡنَٰهَا وَأَلۡقَيۡنَا فِيهَا رَوَٰسِيَ وَأَنۢبَتۡنَا فِيهَا مِن كُلِّ شَيۡءٖ مَّوۡزُونٖ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
ہم نے زمین کو پھیلایا، اُس میں پہاڑ جمائے، اس میں ہر نوع کی نباتات ٹھیک ٹھیک نپی تلی مقدار کے ساتھ اگائی
English (Sahih International)
And the earth - We have spread it and cast therein firmly set mountains and caused to grow therein [something] of every well-balanced thing
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 19 وَالْاَرْضَ مَدَدْنٰهَا وَاَلْقَيْنَا فِيْهَا رَوَاسِيَ زمین کے یہ لنگر پہاڑ ہیں جن کے بارے میں قرآن بار بار کہتا ہے کہ یہ زمین کی حرکت کو متوازن رکھنے Isostsasy کا ایک ذریعہ ہیں۔ وَاَنْۢبَتْنَا فِيْهَا مِنْ كُلِّ شَيْءٍ مَّوْزُوْنٍ کائنات کے اس خدائی نظام میں ہرچیز کی مقدار اور تعداد اس حد تک ہی رکھی گئی ہے جس حد تک اس کی ضرورت ہے۔ اگر کوئی چیز اس مقررہ حد سے بڑھے گی تو وہ اس نظام میں خلل کا باعث بنے گی۔ مثلاً بعض مچھلیوں کے انڈوں کی تعداد لاکھوں میں ہوتی ہے۔ یہ تمام انڈے اگر مچھلیاں بن جائیں تو چند ہی سالوں میں ایک مچھلی کی اولاد اس زمین کے حجم سے بھی کئی گنا زیادہ بڑھ جائے۔ بہر حال اس کائنات کے نظام کو درست رکھنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہرچیز کو ایک طے شدہ اندازے اور ضرورت کے مطابق رکھا گیا ہے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 19 and 20.
جغرافی مطالعہ بتاتا ہے کہ زمین ابتداء ً خشک گولے کی صورت میں تھی پھر وہ پھٹی جس کی وجہ سے سمندر کی گہرائیاں پیدا ہوئیں اور ان میں پانی جمع ہوگیا۔ ان گہرائیوں کو متوازن رکھنے کے لیے زمین پر جگہ جگہ اونچے پہاڑ ابھر آئے۔اس کے بعد زمین پر نباتات اور حیوانات وجو د میں آئے اور خوب پھیلے۔ ان میں سے ہر ایک کے اندر بڑھنے کی لامحدود صلاحیت ہے، مگر ان کو دیکھنے سے صاف معلوم ہوتاہے کہ ہر ایک کا ایک اندازہ مقرر ہے۔ ہر چیز بڑھتے بڑھتے ایک خاص حد پر رک جاتی ہے، وہ اس سے آگے نہیں جانے پاتی۔
مثلاً پودوں اور درختوں میں اپنی نسل بڑھانے کی اتنی زیادہ استعداد ہے کہ اگر کسی ایک پودے کو اس کی اندرونی استعداد کے اعتبار سے بلا روک ٹوک بڑھنے دیا جائے تو چند سال کے اندر ساری سطح زمین پر ہر طرف بس وہی پودا نظر آئے گا۔ کسی دوسری چیز کے لیے یہاں کوئی جگہ باقی نہ رہے گی۔ مگر ایسا معلوم ہوتاہے کہ کوئی زبردست ناظم ہے جو ہر ایک پر کنٹرول قائم کيے ہوئے ہے۔ یہی معاملہ حیوانات کا ہے۔ ان کے اندر بھی افزائش نسل کی لامحدود صلاحیت ہے۔ مگر ہر ایک کی تعداد ایک حد پر پہنچ کر رک جاتی ہے۔ اسی طرح حیوانات میں اپنی جسامت بڑھانے کی استعداد اتنی زیادہ ہے کہ ایک پتنگے کو بڑھنے دیا جائے تو وہ ہاتھی کے برابر ہوجائے۔ مگر قدرتی کنٹرول ایک خاص حد پر اس کی جسامت کو روک دیتاہے۔ اگر چیزیں اپنی حد پر نہ رکیں تو زمین پر انسان کی رہائش ناممکن ہوجائے گی۔
انسان کو اپنی معیشت اور تمدن کے لیے بے شمار چیزیں درکار ہیں۔ یہ ساری چیزیں عین ہماری ضرورت کے مطابق زمین پر مہیا کردی گئی ہیں۔ ان تمام چیزوں کی فراہمی اور ہر ایک کی بقا کا انتظام خدا کی طرف سے ہے۔ اگر ہم کو ان كے ليے رزق كا انتظام كرنا ہو تو ہمارے لیے ان کا حصول نا ممکن ہوجائے۔