Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَلَقَدۡ أَرۡسَلۡنَا مُوسَىٰ بِـَٔايَٰتِنَآ أَنۡ أَخۡرِجۡ قَوۡمَكَ مِنَ ٱلظُّلُمَٰتِ إِلَى ٱلنُّورِ وَذَكِّرۡهُم بِأَيَّىٰمِ ٱللَّهِۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَأٓيَٰتٖ لِّكُلِّ صَبَّارٖ شَكُورٖ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
ہم اِس سے پہلے موسیٰؑ کو بھی اپنی نشانیوں کے ساتھ بھیج چکے ہیں اسے بھی ہم نے حکم دیا تھا کہ اپنی قوم کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لا اور انہیں تاریخ الٰہی کے سبق آموز واقعات سنا کر نصیحت کر اِن واقعات میں بڑی نشانیاں ہیں ہر اُس شخص کے لیے جو صبر اور شکر کرنے والا ہو
English (Sahih International)
And We certainly sent Moses with Our signs, [saying], “Bring out your people from darknesses into the light and remind them of the days of Allah.” Indeed in that are signs for everyone patient and grateful
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
This commentary covers ayaat 5 and 6.
آیت 5 وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰيٰتِنَآاَنْ اَخْرِجْ قَوْمَكَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ وَذَكِّرْهُمْ ڏ بِاَيّٰىمِ اللّٰهِ یہ ”التّذکیر بایّام اللّٰہ“ کی وہی اصطلاح ہے جس کا ذکر شاہ ولی اللہ دہلوی کے حوالے سے قبل ازیں بار بار آچکا ہے۔ شاہ ولی اللہ نے اپنی مشہور کتاب ”الفوز الکبیر“ میں مضامین قرآن کی تقسیم کے سلسلے میں ”التذکیر بایام اللّٰہ“ کی یہ اصطلاح استعمال کی ہے یعنی اللہ کے ان دنوں کے حوالے سے لوگوں کو خبردار کرنا جن دنوں میں اللہ نے بڑے بڑے فیصلے کیے اور ان فیصلوں کے مطابق کئی قوموں کو نیست و نابود کردیا۔ اس کے ساتھ شاہ ولی اللہ نے دوسری اصطلاح ”التذکیر بآلاء اللّٰہ“ کی استعمال کی ہے ‘ یعنی اللہ کی نعمتوں اور اس کی نشانیوں کے حوالے سے تذکیر اور یاد دہانی۔اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ صَبَّار اور شَکُور دونوں مبالغے کے صیغے ہیں۔ صبر اور شکر یہ دونوں صفات آپس میں ایک دوسرے کے لیے تکمیلی complementary نوعیت کی ہیں۔ چناچہ ایک بندۂ مؤمن کو ہر وقت ان میں سے کسی ایک حالت میں ضرور ہونا چاہیے اور اگر وہ ان میں سے ایک حالت سے نکلے تو دوسری حالت میں داخل ہوجائے۔ اگر اللہ نے اس کو نعمتوں اور آسائشوں سے نوازا ہے تو وہ شکر کرنے والا ہو اور اگر کوئی مصیبت یا تنگی اسے پہنچی ہے تو صبر کرنے والا ہو۔حضرت صہیب بن سنان رومی روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا : عَجَبًا لِاَمْرِ الْمُؤْمِنِ اِنَّ اَمْرَہٗ کُلَّہٗ خَیْرٌ وَلَیْسَ ذَاکَ لِاَحَدٍ الاَّ لِلْمُؤْمِنِ ‘ اِنْ اَصَابَتْہُ سَرَّاءُ شَکَرَ فَکَانَ خَیْرًا لَہٗ وَاِنْ اَصَابَتْہُ ضَرَّاءُ صَبَرَ فَکَانَ خَیْرًا لَہٗ 1”مؤمن کا معاملہ تو بہت ہی خوب ہے ‘ اس کے لیے ہر حال میں بھلائی ہے ‘ اور یہ بات مؤمن کے سوا کسی اور کے لیے نہیں ہے۔ اگر اسے کوئی آسائش پہنچتی ہے تو شکر کرتا ہے ‘ پس یہ اس کے لیے بہتر ہے ‘ اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو صبر کرتا ہے ‘ پس یہ اس کے لیے بہتر ہے۔“
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
’’آیات اللہ‘‘ سے مرادکائنات کی وہ نشانیاں ہیں جو خدا کی بات کو برحق ثابت کرتی ہیں۔ ’’ایام اللہ‘‘ سے مراد تاریخ کے وہ یادگار واقعات ہیں جب کہ خدا کا فیصلہ ظاہر ہوا اور خدا کی خصوصی مدد سے حق نے باطل کے اوپر فتح پائی۔ ایک اگر کائناتی دلیل ہے تو دوسری تاریخی دلیل۔
مگرعجیب بات ہے کہ یہی دونوں چیزیں ہماری دنیا میں سب سے زیادہ غیر موجود نظر آتی ہیں۔ ٓآیات اللہ کو غلط تشریح و تعبیر کے پردہ میں چھپا دیاگیا ہے اور ایام اللہ کایہ حال ہے کہ تاریخ نگاری کا کام جن لوگوں کے ہاتھ میں تھا انھوںنے ایام الانسان تو خوب قلم بند كيے مگر ایام اللہ ان کی کتابوں میں غیر مذکور رہ گئے۔
ایسی حالت میں کسی بندہ خدا کے لیے باطل کے اندھیرے سے نکلنے کی صورت یہ ہے کہ وہ صبر اور شکر کا ثبوت دے۔
حق کے اعتراف کی واحد قیمت اپنی بے اعترافی ہے۔ حق کو پانے کے لیے اپنے آپ کو کھونا پڑتا ہے۔ اور یہ چیز صبر کے بغیر کسی کو حاصل نہیں ہوتی۔ پھر حق کا ادراک آدمی کو یہ بتاتا ہے کہ اس کائنات میں جو تقسیم ہے وہ منعم اور منعم علیہ کی ہے۔ خدا دینے والا ہے اور انسان پانے والا۔ اس حقیقتِ واقعہ کی دریافت کے بعد آدمی کے اندر جو صحیح جذبہ پیدا ہونا چاہیے اسی کا نام شکر ہے۔ گویا حقیقت تک پہنچنے کے لیے آدمی کو صبر کا ثبوت دینا پڑتا ہے اور حقیقت کو اپنے اندر اتارنے کے لیے شکر کا۔