Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
فَلَا تَحۡسَبَنَّ ٱللَّهَ مُخۡلِفَ وَعۡدِهِۦ رُسُلَهُۥٓۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٞ ذُو ٱنتِقَامٖ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
پس اے نبیؐ، تم ہرگز یہ گمان نہ کرو کہ اللہ کبھی اپنے رسولوں سے کیے ہوئے وعدوں کے خلاف کرے گا اللہ زبردست ہے اور انتقام لینے والا ہے
English (Sahih International)
So never think that Allah will fail in His promise to His messengers. Indeed, Allah is Exalted in Might and Owner of Retribution
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 47 فَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ مُخْلِفَ وَعْدِهٖ رُسُلَهٗ یہاں پر رسول کے بجائے رسل جمع کا صیغہ استعمال ہوا ہے یعنی تمام رسولوں کے ساتھ اللہ کا یہ مستقل وعدہ رہا کہ تمہاری مدد کی جائے گی اور آخری کامیابی تمہاری ہی ہوگی۔ جیسا کہ سورة المجادلہ کی آیت 21 میں فرمایا گیا : كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ یعنی اللہ نے طے کیا ہوا ہے ‘ لکھ کر رکھا ہوا ہے کہ میں اور میرے رسول غالب آکر رہیں گے۔ درمیان میں کچھ اونچ نیچ ہوگی ‘ تکلیفیں بھی آئیں گی ‘ آزمائشوں کا سامنا بھی کرنا ہوگا ‘ مگر فتح ہمیشہ حزب اللہ ہی کی ہوگی۔ آزمائشوں کے ان مراحل کے بارے میں سورة البقرۃ میں فرمایا :وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرٰتِ ۭ وَبَشِّرِ الصّٰبِرِيْنَ ”اور ہم ضرور تمہاری آزمائش کریں گے کسی قدر خوف اور بھوک سے اور مال اور جانوں اور ثمرات کے نقصان سے ‘ تو آپ صبر کرنے والوں کو بشارت سنا دیں۔“اس کے بعد سورة البقرۃ میں ہی فرمایا :اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَاْتِكُمْ مَّثَلُ الَّذِيْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ ۭ مَسَّتْهُمُ الْبَاْسَاۗءُ وَالضَّرَّاۗءُ وَزُلْزِلُوْا حَتّٰى يَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ مَتٰى نَصْرُ اللّٰهِ ۭ اَلَآ اِنَّ نَصْرَ اللّٰهِ قَرِيْبٌ”کیا تم سمجھتے ہو کہ یوں ہی جنت میں داخل ہوجاؤ گے اور ابھی تم کو پہلے لوگوں جیسی مشکلات تو پیش آئیں ہی نہیں۔ ان کو تو بڑی بڑی سختیاں اور تکلیفیں پہنچی تھیں اور وہ ہلا ڈالے گئے تھے ‘ یہاں تک کہ پیغمبر اور ان کے ساتھ جو مؤمنین تھے سب پکار اٹھے کہ کب آئے گی اللہ کی مدد ‘ آگاہ ہوجاؤ ! اللہ کی مدد قریب ہے۔“بہر حال اللہ تعالیٰ کا اپنے رسولوں سے یہ پختہ وعدہ رہا ہے کہ حق و باطل کی اس کش مکش میں بالآخر فتح انہی کی ہوگی اور انہیں جھٹلانے والوں کو ان کے سامنے سزا دی جائے گی۔ یہ ساری باتیں تفصیل سے قرآن میں بیان کی جا چکی ہیں تاکہ ان لوگوں کو کوئی شک نہ رہے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 47 to 52.
پیغمبر خداکے دین کی گواہی اپنی کامل صورت میں دیتاہے۔ اس لیے پیغمبر کے ساتھ خدا کی نصرت بھی اپنی کامل صورت میں آتی ہے۔ بعد کے پیرو جتنا جتنا پیغمبر کے نمونہ پر پورے اتریں گے اتنا اتنا وہ خدا کی نصرت کے مستحق ہوتے چلے جائیں گے۔
آج انسان زمین پر ایسا محسوس کرتاہے جیسے وہ خشکی اور تری کا مالک ہو۔ وہ فضاؤں اور خلاؤں کو کنٹرول کرسکتاہے۔ وہ اختیار رکھتاہے کہ یہاں کے وسائل کو جس طرح چاہے استعمال کرے اور جس طرح چاہے استعمال نہ کرے۔ مگر یہ سب کچھ صرف اس لیے ہے کہ خدانے امتحان کی مدت تک زمین وآسمان کو انسان کے لیے مسخر کررکھا ہے۔ امتحان کی مدت ختم ہوتے ہی حالات یکسر بدل جائیں گے۔ اس کے بعد زمین بھی دوسری زمین ہوگی اور آسمان بھی دوسرا آسمان۔ انسان اچانک اپنے کو ایک اور ہی دنیا میں پائے گا۔
جہاں آدمی اپنے کو حکمراں سمجھتا تھا وہاں ساری حکومت صرف خداکے لیے ہوچکی ہوگی۔ جہاں ہر چیز اس کے حکم کے تابع تھی وہاں ہر چیز اس کی تابع داری کرنا چھوڑ دے گی۔ موجودہ دنیا میں جولوگ بڑے بنے ہوئے تھے وہ اس دن بے بس مجرم کے روپ میں نظر آئيں گے۔ جو لباس آج جسم کو زینت ديتا ہے وہ اس دن ایسا ہوجائے گا جیسے جسم کے اوپر تارکول پھیر دی گئی ہو۔ پُر رونق چہرے اس دن آگ میں جھلسے ہوئے ہوں گے۔اور یہ سب کچھ ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جو دنیا میں خدا کا بندہ بن کر رہنے پر راضی نہ ہوئے۔ جنھوںنے خدا کی طرف سے ہونے والے اعلان کو نظر انداز کیا۔
حقیقت کا حقیقت ہونا کافی نہیں ہے کہ آدمی اس کو مان لے۔ حقیقت کو ماننے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی خود بھی اس کو ماننا چاہے۔ جو شخص حقیقت کے معاملہ میں سنجیدہ ہو، جو خالی الذہن ہو کر اس کو سنے وہی حقیقت کو سمجھے گا، وہی حقیقت کا صحیح استقبال کرنے میں کامیاب ہوگا۔