Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 14:38 Prev 14:36


Arabic

رَّبَّنَآ إِنِّيٓ أَسۡكَنتُ مِن ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ غَيۡرِ ذِي زَرۡعٍ عِندَ بَيۡتِكَ ٱلۡمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِيُقِيمُواْ ٱلصَّلَوٰةَ فَٱجۡعَلۡ أَفۡـِٔدَةٗ مِّنَ ٱلنَّاسِ تَهۡوِيٓ إِلَيۡهِمۡ وَٱرۡزُقۡهُم مِّنَ ٱلثَّمَرَٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَشۡكُرُونَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

پروردگار، میں نے ایک بے آب و گیاہ وادی میں اپنی اولاد کے ایک حصے کو تیرے محترم گھر کے پاس لا بسایا ہے پروردگار، یہ میں نے اس لیے کیا ہے کہ یہ لوگ یہاں نماز قائم کریں، لہٰذا تو لوگوں کے دلوں کو اِن کا مشتاق بنا اور انہیں کھانے کو پھل دے، شاید کہ یہ شکر گزار بنیں


English (Sahih International)

Our Lord, I have settled some of my descendants in an uncultivated valley near Your sacred House, our Lord, that they may establish prayer. So make hearts among the people incline toward them and provide for them from the fruits that they might be grateful


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

This commentary covers ayaat 37 and 38.

آیت 37 رَبَّنَآ اِنِّىْٓ اَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِيْ بِوَادٍ غَيْرِ ذِيْ زَرْعٍ عِنْدَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ اے ہمارے پروردگار ! تیرے حکم کے مطابق میں نے یہاں تیرے اس محترم گھر کے پاس اپنی اولاد کو لا کر آباد کردیا ہے۔ حضرت ابراہیم کی دعا میں پہلے رَبِّ ‘ رَبِّ اے میرے پروردگار ! کا صیغہ آ رہا تھا مگر اب ”رَبَّنَا“ جمع کا صیغہ آگیا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس موقع پر آپ کے ساتھ حضرت اسماعیل بھی شامل ہوگئے ہیں۔ یہاں پر عِنْدَ بَیْتِکَ الْمُحَرَّمِ کے الفاظ سے ان روایات کو بھی تقویت ملتی ہے جن کے مطابق بیت اللہ کی تعمیر سب سے پہلے حضرت آدم نے کی تھی۔ ان روایات میں یہ بھی مذکور ہے کہ حضرت آدم کا تعمیر کردہ بیت اللہ ابتدائی زمانہ میں گرگیا اور سیلاب کے سبب اس کی دیواریں وغیرہ بھی بہہ گئیں ‘ صرف بنیادیں باقی رہ گئیں۔ ان ہی بنیادوں پر پھر حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل نے اس کی تعمیر کی جس کا ذکر سورة البقرۃ کی آیت 127 میں ملتا ہے : وَاِذْ یَرْفَعُ اِبْرٰہٖمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَیْتِ وَاِسْمٰعِیْلُ ط۔ بہرحال حضرت ابراہیم عرض کر رہے ہیں :رَبَّنَا لِيُقِيْمُوا الصَّلٰوةَ فَاجْعَلْ اَفْىِٕدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِيْٓ اِلَيْهِمْ لوگوں کے دلوں میں ان کے لیے محبت پیدا ہوجائے لوگ اطراف و جوانب سے ان کے پاس آئیں تاکہ اس طرح ان کے لیے یہاں رہنے اور بسنے کا بندوبست ہو سکے۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

قدیم مکہ جہاں بنو اسماعیل بسائے گئے وہاں کی پہاڑی اور صحرائی دنیا گویا خدا کی معرفت کی قدرتی تربیت گاہ تھی۔ دوسری طرف وہاں انسانی تعمیرات کے اعتبار سے واحد قابل لحاظ نشان کعبۃ اللہ تھا۔ ایک طرف فطرت کاماحول انسان کے اندر خدا کی یاد ابھارنے والا تھا۔ اس کے بعد اپنے قریب اس کو جو نمایاں چیز نظر آتی تھی وہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل کی بنائی ہوئی پتھروں کی مسجد تھی جس میں داخل ہو کر وہ خدا کی یاد میں مشغول ہوجائے۔

پھر اس ماحول میں بنو اسماعیل کو معجزاتی طورپر زمزم کے ذریعہ پانی مہیا کیا گیا۔ اسی کے ساتھ ان کے لیے یہ انتظام کیا گیا کہ ایسی پیدوار سے ان کو رزق ملے جو ان کے قدموں کے نیچے پیدا نہیں ہوتا۔ یہ گویا ان کو شاکر بنانے کا خصوصی اہتمام تھا۔ غیر معمولی نعمت سے آدمی کے اندر شکر کا غیر معمولی جذبہ ابھرتاہے۔ اور یہی وہ حکمت ہے جو حضرت ابراہیم کی اس دعامیں چھپی ہوئی تھی کہ صحرا میں انھیں پھلوں کی روزی دے ۔


Connections

  • Previous: 14_36
  • Next: 14_38
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes