Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 14:36 Prev 14:34


Arabic

وَإِذۡ قَالَ إِبۡرَٰهِيمُ رَبِّ ٱجۡعَلۡ هَٰذَا ٱلۡبَلَدَ ءَامِنٗا وَٱجۡنُبۡنِي وَبَنِيَّ أَن نَّعۡبُدَ ٱلۡأَصۡنَامَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

یاد کرو وہ وقت جب ابراہیمؑ نے دعا کی تھی کہ “پروردگار، اِس شہر کو امن کا شہر بنا اور مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے بچا


English (Sahih International)

And [mention, O Muhammad], when Abraham said, “My Lord, make this city [Makkah] secure and keep me and my sons away from worshipping idols


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

وَاِذْ قَالَ اِبْرٰهِيْمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا وَّاجْنُبْنِيْ وَبَنِيَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَ یہ مضمون سورة البقرۃ کے پندرھویں رکوع کے مضمون سے ملتا جلتا ہے۔ حضرت ابراہیم سے ما قبل زمانہ کی جو تاریخ ہمیں معلوم ہوئی ہے اس کے مطابق اس دور کی سب سے بڑی گمراہی بت پرستی تھی۔ آپ سے پہلے کی تمام اقوام اسی گمراہی میں مبتلا تھیں۔ آپ کی اپنی قوم کا اس سلسلے میں یہ حال تھا کہ انہوں نے ایک بہت بڑے بت خانے میں بہت سے بت سجا رکھے تھے۔ انہی بتوں کا سورة الانبیاء میں ذکر ملتا ہے کہ حضرت ابراہیم نے ان کو توڑا تھا۔ اس کے علاوہ آپ کی قوم ستاروں کی پوجا بھی کرتی تھی جبکہ نمرود نے انہیں سیاسی شرک میں بھی مبتلا کر رکھا تھا۔ وہ اختیار مطلق کا دعویدار تھا اور جس چیز کو وہ چاہتا جائز قرار دیتا اور جس کو چاہتا ممنوع۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 35 and 36.

حضرت ابراہیم کے زمانہ تک ملکوںاور قوموں کا یہ حال ہوچکا تھا کہ ہر طرف شرک کا دور دورہ تھا۔ سورج چاند اور دوسرے مظاہر فطرت انسان کی پرستش کا موضوع بنے ہوئے تھے۔ قدیم زمانہ میں زندگی کی تمام سرگرمیوں پر شرک کا اس طرح غلبہ ہوا کہ انسانی نسلوں میں شرک کا تسلسل قائم ہوگیا۔ بظاہر یہ ناممکن نظر آنے لگا کہ لوگوں کو شرک کی فضا سے نکال کر توحید کے دائرے میں لایا جاسکے۔ اس وقت خدا کے حکم خاص کے تحت حضرت ابراہیم عراق سے نکل کر عرب کے صحرا میںآئے جو تمدن سے دور بالکل غیر آباد علاقہ تھا۔ آپ نے الگ تھلگ ماحول میں اپنی بیوی ہاجرہ اور اپنے بچہ اسماعیل کو بسایا۔ تاکہ یہاں وقت کے مشرکانہ تسلسل سے کٹ کر ایک نئی نسل تیار ہو۔ جو آزادانہ فضا میں پرورش پاکر اپنی فطرت صحیحہ پر قائم ہوسکے— حضرت ابراہیم کا کلام دعا کے انداز میں اسی خاص حقیقت کو ظاہر کررہا ہے۔

بنواسماعیل کو خشک اور غیر آباد بیابان میں بسانے سے خدا کا منصوبہ یہی تھا۔ اب یہاں کے جن لوگوں نے توحید کو اپنے دل کی آواز بنایا وہ گویا باغ ابراہیم کی صحیح پیداوار تھے۔ اس کے برعکس جن لوگوں نے دوبارہ شرک کا طریقہ اختیار کرلیاوہ اس باغ کی ناقص پیداوار قرار پائیں گے۔


Connections

  • Previous: 14_34
  • Next: 14_36
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes