Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
قُل لِّعِبَادِيَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ يُقِيمُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَيُنفِقُواْ مِمَّا رَزَقۡنَٰهُمۡ سِرّٗا وَعَلَانِيَةٗ مِّن قَبۡلِ أَن يَأۡتِيَ يَوۡمٞ لَّا بَيۡعٞ فِيهِ وَلَا خِلَٰلٌ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اے نبیؐ، میرے جو بندے ایمان لائے ہیں اُن سے کہہ دو کہ نماز قائم کریں اور جو کچھ ہم نے اُن کو دیا ہے، اُس میں سے کھلے اور چھپے (راہ خیر میں) خرچ کریں قبل اِس کے کہ وہ دن آئے جس میں نہ خرید و فروخت ہوگی اور نہ دوست نوازی ہوسکے گی
English (Sahih International)
[O Muhammad], tell My servants who have believed to establish prayer and spend from what We have provided them, secretly and publicly, before a Day comes in which there will be no exchange, nor any friendships
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
This commentary covers ayaat 31 and 32.
آیت 31 قُلْ لِّعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا يُقِيْمُوا الصَّلٰوةَ یہاں یہ نکتہ لائقِ توجہ ہے کہ قُلْ لِّعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا کے الفاظ سے رسول اللہ کو مخاطب کر کے اہل ایمان کو بالواسطہ حکم دیا جا رہا ہے اور یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کے الفاظ سے اہل ایمان کو براہ راست مخاطب نہیں کیا گیا۔ اس سلسلے میں پہلے بھی بتایا جا چکا ہے کہ پورے مکی قرآن میں یٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کے الفاظ سے براہ راست مسلمانوں سے خطاب نہیں کیا گیا۔ سورۃ الحج میں ایک مقام پر یہ الفاظ آئے ہیں مگر اس سورة کے مکی یا مدنی ہونے کے بارے میں اختلاف ہے۔ اس میں جو حکمت ہے وہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ جہاں تک مجھے اس کی وجہ سمجھ میں آئی ہے وہ میں آپ کو بتاچکا ہوں کہ یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کا طرز خطاب امت کے لیے ہے اور مکی دور میں مسلمان ابھی ایک امت نہیں بنے تھے۔ مسلمانوں کو امت کا درجہ مدینہ میں آکر تحویل قبلہ کے بعد ملا۔ پچھلے دو ہزار برس سے امت مسلمہ کے منصب پر یہودی فائز تھے۔ انہیں اس منصب سے معزول کر کے محمد رسول اللہ کی امت کو امت مسلمہ کا درجہ دیا گیا اور تحویل قبلہ اس تبدیلی کی ظاہری علامت قرار پایا۔ یعنی یہودیوں کے قبلہ کی حیثیت بطور قبلہ ختم کرنے کا مطلب یہ قرار پایا کہ انہیں امت مسلمہ کے منصب سے معزول کردیا گیا ہے۔ چناچہ قرآن میں یٰٓاَ یُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کے الفاظ کے ذریعے مسلمانوں سے خطاب اس کے بعد شروع ہوا۔وَيُنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّعَلَانِيَةً مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا بَيْعٌ فِيْهِ وَلَا خِلٰلٌیہ آیت سورة البقرۃ کی آیت 254 سے بہت ملتی جلتی ہے۔ وہاں بیع اور دوستی کے علاوہ شفاعت کی بھی نفی کی گئی ہے : يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا بَيْعٌ فِيْهِ وَلَا خُلَّةٌ وَّلَا شَفَاعَةٌ۔ یعنی اس دن سے پہلے پہلے ہمارے عطا کردہ رزق میں سے خرچ کرلو جس میں نہ کوئی بیع ہوگی نہ کوئی دوستی کام آئے گی اور نہ ہی کسی کی شفاعت فائدہ مند ہوگی۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
آدمی کے اوپر جب کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ اس سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کرتاہے۔ اگر اس کے کچھ ساتھی ہیں تو وہ ساتھیوں کا زور استعمال کرتاہے۔ اور اگر دولت ہے تو دولت کو اس کی راہ میں خرچ کرتا ہے۔ اپنے کو بچانے کی تڑپ آدمی کو مجبور کرتی ہے کہ وہ ان دونوں چیزوں کی طرف دوڑے۔
نماز اور انفاق حقیقۃً مسئلہ آخرت کے بارے میں آدمی کے اسی احساس کا دنیوی اظہار ہیں۔ نماز گویا آخرت کی ہولناکی کو یاد کرکے خدا کی پناہ کی طرف بھاگنا ہے تاکہ اس کی مدد سے وہ اپنے آپ کو بچائے۔ اسی طرح دنیا میں کھلے اور چھپے خرچ کرناگویا اپنی کمائی کو آخرت کی مد میں دینا ہے تاکہ وہ آخرت کی مصیبت سے چھٹکارا حاصل کرنے کا ذریعہ بنے۔
آخرت میں وہی آدمی سہارا پائے گا جس نے دنیا میں خدا کا سہارا پکڑا ہو۔ آخرت میں وہی آدمی چھٹکارا حاصل کرے گا جس نے دنیا میں اس کی خاطر اپنے دائیں بائیں خرچ کیا ہو۔ جولوگ دنیا میں ایسا نہ کرسکیں وہ آخرت میں سہارا کے لیے دوڑیں گے مگر وہاں وہ کوئی سہارا نہ پائیں گے۔ وہ آخرت میں خرچ کرنا چاہیں گے مگر ان کے پاس کچھ نہ ہوگا جس کو فدیہ دے کر وہ وہاں کی مصیبتوں سے نجات حاصل کریں۔