Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 14:29 Prev 14:27


Arabic

۞أَلَمۡ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ بَدَّلُواْ نِعۡمَتَ ٱللَّهِ كُفۡرٗا وَأَحَلُّواْ قَوۡمَهُمۡ دَارَ ٱلۡبَوَارِ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

تم نے دیکھا اُن لوگوں کو جنہوں نے اللہ کی نعمت پائی اور اُسے کفران نعمت سے بدل ڈالا اور (اپنے ساتھ) اپنی قوم کو بھی ہلاکت کے گھر میں جھونک دیا


English (Sahih International)

Have you not considered those who exchanged the favor of Allah for disbelief and settled their people [in] the home of ruin


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

This commentary covers ayaat 28 and 29.

آیت 28 اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ بَدَّلُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ كُفْرًااللہ تعالیٰ نے انہیں ہدایت کی نعمت سے نوازا تھا مگر انہوں نے ہدایت ہاتھ سے دے کر ضلالت اور گمراہی خرید لی۔ اللہ اس کے رسول اور اس کی کتاب سے کفر کر کے انہوں نے اللہ کی نعمت سے خود کو محروم کرلیا۔وَّاَحَلُّوْا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ جیسے سورة ہود آیت 98 میں فرعون کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ روز محشر وہ اپنی قوم کی قیادت کرتا ہوا آئے گا اور اس پورے جلوس کو لا کر جہنم کے گھاٹ اتار دے گا۔ اسی طرح تمام قوموں اور تمام معاشروں کے گمراہ لیڈر اپنے اپنے پیروکاروں کو جہنم میں پہنچانے کا باعث بنتے ہیں۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 28 to 30.

ان آیات کا ابتدائی خطاب قریش کے سرداروں سے ہے۔ مگر اس عمومی انطباق میں وہ تمام لیڈر شامل ہیں جو انکارِ حق کی مہم کی سرداری کرتے ہیں۔

کسی قوم کے بڑے وہی لوگ بنتے ہیں جن کو خصوصی نعمتیں اورمواقع حاصل ہوں۔ ان نعمتوں اور مواقع کا صحیح ترین استعمال یہ ہے کہ جب ان کے سامنے حق کی دعوت اٹھے تو وہ اپنے تمام وسائل کے ساتھ اس کی جانب کھڑے ہوں اور اس کی پوری مدد کریں۔ جو چیزیں خدا کی دی ہوئی ہیں ان پر سب سے زیادہ حق خدا کا ہے، نہ کہ کسی اورکا۔

مگر اکثر حالات میں معاملہ اس کے برعکس ہوتاہے۔ ایسے لوگ نہ صرف یہ کہ حق کو قبول نہیں کرتے بلکہ اس کے خلاف اٹھنے والی تحریک کی قیادت کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اپنے سے باہر اٹھنے والے حق کو قبول کرنا گویا اپنے آپ کو اس کے مقابلہ میں چھوٹا کرنا ہے۔ اور ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ وہ لوگ اس پر راضی ہو جائیں جن کو کسی وجہ سے ماحول میں بڑائی کا درجہ مل گیا ہو۔

انسان کو ایک خدا چاہیے۔ ایک ایسی ہستی جسے وہ اپنی زندگی میں سب سے بڑا مقام دے سکے۔ چنانچہ جب بھی کوئی شخص لوگوں کی توجہ خدائے واحد سے ہٹاتاہے تو اس کا نتیجہ یہ ہوتاہے کہ لوگوں کی توجہ کسی غیر خدا کی طرف مائل ہوجاتی ہے۔ خدا کو چھوڑنا ہمیشہ غیر خدا کو اپنا خدا بنانے کی قیمت پر ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ خدا سے لوگوں کو ہٹانے والے کسی غیر خدا میں فرضی طورپر وہ اعلیٰ صفات ثابت کرتے ہیں جو صرف خدا میں پائی جاتی ہیں۔ کیوں کہ جب تک غیر خدا میں وہ اعلیٰ صفات ثابت نہ کی جائیں لوگ اس کی طرف متوجہ نہیں ہوسکتے۔ یہی وجہ ہے کہ آدمی جب ایک خدا کی پرستش چھوڑتا ہے تو وہ اس کے بعد لازمی طورپر توہم پرستی میں پڑ جاتا ہے۔ خدا کو چھوڑنے کا واحد بدل اس دنیا میں توہم پرستی ہے۔


Connections

  • Previous: 14_27
  • Next: 14_29
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes