Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
يَتَجَرَّعُهُۥ وَلَا يَكَادُ يُسِيغُهُۥ وَيَأۡتِيهِ ٱلۡمَوۡتُ مِن كُلِّ مَكَانٖ وَمَا هُوَ بِمَيِّتٖۖ وَمِن وَرَآئِهِۦ عَذَابٌ غَلِيظٞ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
جسے وہ زبردستی حلق سے اتارنے کی کوشش کرے گا اور مشکل ہی سے اتار سکے گا موت ہر طرف سے اس پر چھائی رہے گی مگر وہ مرنے نہ پائے گا اور آگے ایک سخت عذاب اس کی جان کا لاگو رہے گا
English (Sahih International)
He will gulp it but will hardly [be able to] swallow it. And death will come to him from everywhere, but he is not to die. And before him is a massive punishment
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
وَيَاْتِيْهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَّمَا هُوَ بِمَيِّتٍ شدید تکلیف میں موت انسان کو راحت پہنچا دیتی ہے۔ بعض بیمار ایسے ہوتے ہیں کہ تکلیف کی شدت میں ایڑیاں رگڑ رہے ہوتے ہیں اور موت ان کے لیے راحت کا سامان بن جاتی ہے۔ لیکن جہنم ایسی جگہ ہے کہ جہاں انسان کو موت نہیں آئے گی۔ سورة طٰہٰ میں اس کیفیت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : لَا یَمُوْتُ فِیْہَا وَلَا یَحْیٰی ”نہ وہ اس میں مرے گا اور نہ جی پائے گا“۔ اہل جہنم شدید خواہش کریں گے کہ موت آجائے اور ان کا قصہ تمام ہوجائے مگر ان کی یہ خواہش پوری نہیں ہوگی۔وَمِنْ وَّرَاۗىِٕهٖ عَذَابٌ غَلِيْظٌیعنی اس سختی میں مسلسل اضافہ ہوتا جائے گا عذاب کی شدت درجہ بدرجہ بڑھتی ہی چلی جائے گی۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
The commentary on this ayah is given with ayah 14:15.