Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
۞قَالَتۡ رُسُلُهُمۡ أَفِي ٱللَّهِ شَكّٞ فَاطِرِ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۖ يَدۡعُوكُمۡ لِيَغۡفِرَ لَكُم مِّن ذُنُوبِكُمۡ وَيُؤَخِّرَكُمۡ إِلَىٰٓ أَجَلٖ مُّسَمّٗىۚ قَالُوٓاْ إِنۡ أَنتُمۡ إِلَّا بَشَرٞ مِّثۡلُنَا تُرِيدُونَ أَن تَصُدُّونَا عَمَّا كَانَ يَعۡبُدُ ءَابَآؤُنَا فَأۡتُونَا بِسُلۡطَٰنٖ مُّبِينٖ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اُن کے رسولوں نے کہا “کیا خدا کے بارے میں شک ہے جو آسمانوں اور زمین کا خالق ہے؟ وہ تمہیں بلا ر =ہا ہے تاکہ تمہارے قصور معاف کرے اور تم کو ایک مدت مقرر تک مہلت دے” اُنہوں نے جواب دیا “تم کچھ نہیں ہو مگر ویسے ہی انسان جیسے ہم ہیں تم ہمیں اُن ہستیوں کی بندگی سے روکنا چاہتے ہو جن کی بندگی باپ دادا سے ہوتی چلی آ رہی ہے اچھا تو لاؤ کوئی صریح سند
English (Sahih International)
Their messengers said, “Can there be doubt about Allah, Creator of the heavens and earth? He invites you that He may forgive you of your sins, and He delays your death for a specified term.” They said, “You are not but men like us who wish to avert us from what our fathers were worshipping. So bring us a clear authority
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 10 قَالَتْ رُسُلُهُمْ اَفِي اللّٰهِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ یہ searching question کا سا انداز ہے جس میں بات وہاں سے شروع کی جا رہی ہے جہاں تک خود فریق ثانی کو بھی اتفاق ہے۔ مذکورہ تمام اقوام کے کفار و مشرکین میں ایک عقیدہ ہمیشہ مشترک رہا ہے کہ وہ تمام لوگ نہ صرف اللہ کو مانتے تھے بلکہ اسے زمین و آسمان کا خالق بھی تسلیم کرتے تھے۔ چناچہ جس قوم کے لوگوں نے بھی اپنے رسول کی دعوت کو شکوک و شبہات کی بنا پر رد کرنا چاہا ان کو ہمیشہ یہی جواب دیا گیا۔ یعنی سب سے پہلے اللہ کی ذات کا معاملہ ہمارے تمہارے درمیان واضح ہونا چاہیے کہ تمہیں اللہ کی ذات کے بارے میں شک ہے یا اس کے خالق ارض و سماوات ہونے میں ؟تُرِيْدُوْنَ اَنْ تَصُدُّوْنَا عَمَّا كَانَ يَعْبُدُ اٰبَاۗؤُنَا فَاْتُوْنَا بِسُلْطٰنٍ مُّبِيْنٍ سب قوموں کے لوگوں کا یہ جواب بھی ایک جیسا تھا سب نے رسولوں کے انسان ہونے پر اعتراض کیا اور سب نے حسی معجزہ طلب کیا۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
اس آیت کا تعلق اصلاً قدیم قوموں سے ہے۔ مگر قرآن کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس میں خدا کی ابدی تعلیمات کو تاریخ کے سانچہ میں ڈھال کر پیش کیاگیا ہے۔ اس لیے قرآن میںایسے الفاظ استعمال كيے جاتے ہیں جن میں مخاطبِ اول کی رعایت کے ساتھ بعد کے انسانوں کی رعایت بھی پوری طرح شامل ہو۔
اس آیت میں ’’فاطر‘‘ کا لفظ اسی کی ایک مثال ہے۔ فاطرکے لفظی معنی ہیں ’’پھاڑنے والا‘‘۔ عمومی مفہوم کے لحاظ سے فاطر کا لفظ یہاں خالق کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ مگراس کا خالص لفظی ترجمہ کیا جائے تو وہ ہوگا— ’’کیا تم کو خدا کے بارہ میں شک ہے جو زمین و آسمان کا پھاڑنے والا ہے‘‘۔
لفظی ترجمہ کے اعتبار سے یہ آیت موجودہ زمانہ میں منکرین خدا کے لیے خدا کے وجود کو ثابت کررہی ہے۔ جدید تحقیقات بتاتی ہیں کہ زمین وآسمان کا مادہ ابتداء ً ایک سالم گولے کی صورت میں تھا۔ جس کو سپر ایٹم کہاجاتاہے۔ معلوم قوانینِ فطرت کے مطابق اس کے تمام اجزاء انتہائی شدت کے ساتھ اندر کی طرف جڑے ہوئے تھے۔ موجودہ وسیع کائنات اسی سپر ایٹم میں انفجار سے وجود میںآئی۔ اس آیت میں فاطر (پھاڑنے والا) کا لفظ اسی کائناتی واقعہ کی طرف اشارہ کررہا ہے جو ایک خالق کے وجود کا قطعی ثبوت ہے۔ کیوں کہ سپر ايٹم کے اجزاء جو مکمل طورپر اندر کی طرف کھنچے ہوئے تھے، ان کو بیرونی سمت میں متحرک کرنا اپنے آپ نہیں ہوسکتا۔ لازم ہے کہ اس کے لیے کسی خارجی مداخلت کو مانا جائے۔ اسی مداخلت کرنے والی طاقت کا دوسرا نام خدا ہے۔