Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَيَقُولُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لَوۡلَآ أُنزِلَ عَلَيۡهِ ءَايَةٞ مِّن رَّبِّهِۦۚ قُلۡ إِنَّ ٱللَّهَ يُضِلُّ مَن يَشَآءُ وَيَهۡدِيٓ إِلَيۡهِ مَنۡ أَنَابَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
یہ لوگ جنہوں نے (رسالت محمدیؐ کو ماننے سے) انکار کر دیا ہے کہتے ہیں “اِس شخص پر اِس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہ اتری” کہو، اللہ جسے چاہتا ہے گمراہ کر دیتا ہے اور وہ اپنی طرف آنے کا راستہ اُسی کو دکھاتا ہے جو اُس کی طرف رجوع کرے
English (Sahih International)
And those who disbelieved say, “Why has a sign not been sent down to him from his Lord?” Say, [O Muhammad], “Indeed, Allah leaves astray whom He wills and guides to Himself whoever turns back [to Him]
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 27 وَيَقُوْلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْلَآ اُنْزِلَ عَلَيْهِ اٰيَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ مشرکین مکہ کی ہٹ دھرمی ملاحظہ ہو بار بار ان کی اسی بات اور اسی دلیل کا ذکر ہو رہا ہے کہ محمد رسول اللہ پر کوئی حسی معجزہ کیوں نہیں اتارا گیا ؟قُلْ اِنَّ اللّٰهَ يُضِلُّ مَنْ يَّشَاۗءُ وَيَهْدِيْٓ اِلَيْهِ مَنْ اَنَابَ جو لوگ خود ہدایت کے طالب ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں وہ انہیں نعمت ہدایت سے سرفراز فرماتا ہے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 27 to 29.
حق کے داعی کو نہ ماننے کی وجہ عام طورپر یہ ہوتی ہے کہ لوگوں کو داعی کے گرد محسوس قسم کے کرشمے نظر نہیں آتے۔ مگر یہ عین اسی مقام پر ناکام ہونا ہے جہاں آدمی کو کامیابی کاثبوت دینا چاہیے۔ خدا یہ چاہتاہے کہ آدمی حق کو اس کے مجرد روپ میں پہچانے اور اپنے آپ کو اس کے حوالے کردے۔ اب جو شخص اصرا رکرے کہ وہ محسوس کرشموں کی دلیل کے بغیر نہیں مانے گا، اس کا انجام اس دنیا میں یہی ہوسکتاہے کہ خدا کے قانون کے مطابق کبھی اس کو حق نہ ملے۔ وہ ہمیشہ کے لیے ہدایت سے محروم ہوجائے۔
یہ دنیا دار الامتحان ہے۔ یہاں آدمی صرف ’’یاد‘‘ کی سطح پر خدا کو پاسکتاہے۔ وہ اس کو ’’مشاہدہ‘‘ کی سطح پر نہیں پاسکتا۔ جو لوگ اس خدائی منصوبہ پر راضی ہوں گے وہ خدا کو پائیںگے۔ اور جو لوگ اس پر راضی نہ ہوں وہ خدا کو پانے سے اسی طرح محروم رہیں گے جس طرح ننگی آنکھ سے سورج کو دیکھنے پر اصرار کرنے والا سورج کو دیکھنے سے۔
اس دنیا میں کامیابی صرف اس شخص کے لیے ہے جو خدا کے منصوبہ کومانے اور اس کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھال لے۔ کیوں کہ دنیا کی تخلیق کرنے والا خدا ہے، نہ کہ کوئی انسان۔