Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 13:15 Prev 13:13


Arabic

لَهُۥ دَعۡوَةُ ٱلۡحَقِّۚ وَٱلَّذِينَ يَدۡعُونَ مِن دُونِهِۦ لَا يَسۡتَجِيبُونَ لَهُم بِشَيۡءٍ إِلَّا كَبَٰسِطِ كَفَّيۡهِ إِلَى ٱلۡمَآءِ لِيَبۡلُغَ فَاهُ وَمَا هُوَ بِبَٰلِغِهِۦۚ وَمَا دُعَآءُ ٱلۡكَٰفِرِينَ إِلَّا فِي ضَلَٰلٖ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

اسی کو پکارنا برحق ہے رہیں وہ دوسری ہستیاں جنہیں اس کو چھوڑ کر یہ لوگ پکارتے ہیں، وہ اُن کی دعاؤں کا کوئی جواب نہیں دے سکتیں اُنہیں پکارنا تو ایسا ہے جیسے کوئی شخص پانی کی طرف ہاتھ پھیلا کر اُس سے درخواست کرے کہ تو میرے منہ تک پہنچ جا، حالانکہ پانی اُس تک پہنچنے والا نہیں بس اِسی طرح کافروں کی دعائیں بھی کچھ نہیں ہیں مگر ایک تیر بے ہدف


English (Sahih International)

To Him [alone] is the supplication of truth. And those they call upon besides Him do not respond to them with a thing, except as one who stretches his hands toward water [from afar, calling it] to reach his mouth, but it will not reach it [thus]. And the supplication of the disbelievers is not but in error [i.e. futility]


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 14 لَهٗ دَعْوَةُ الْحَقِّ یعنی اللہ ہی ایک ہستی ہے جس کو پکارنا جس سے دعا کرنا برحق ہے کیونکہ ایک وہی ہے جو تمہاری پکار کو سنتا ہے تمہاری حاجت کو جانتا ہے تمہاری حاجت روائی کرنے پر قادر ہے اس لیے اس کو پکارنا حق بھی ہے اور سود مند بھی۔ اسے چھوڑ کر کسی اور کو پکارو گے چاہے وہ کوئی فرشتہ ہو ولی ہو یا نبی کوئی تمہاری پکار اور فریاد کو نہیں سنے گا اور جیسا کہ اگلی آیت میں فرمایا گیا ہے تمہاری ہر ایسی پکار اکارت جائے گی۔ اس فقرے کا دوسرا مفہوم یہ بھی ہے کہ ”اسی کی دعوت حق ہے“۔ یعنی جس چیز کی دعوت وہ دے رہا ہے جس راستے کی طرف وہ بلا رہا ہے وہی حق ہے۔ وَالَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا يَسْتَجِيْبُوْنَ لَهُمْ بِشَيْءٍ وہ ان کی کوئی بھی داد رسی نہیں کرسکتے۔اِلَّا كَبَاسِطِ كَفَّيْهِ اِلَى الْمَاۗءِ لِيَبْلُغَ فَاهُ وَمَا هُوَ بِبَالِغِهٖ جیسے اپنے ہاتھ پھیلا کر پانی کو اپنے منہ کی طرف بلانا ایک کار عبث ہے ‘ اسی طرح کسی غیر اللہ کو پکارنا اس کے سامنے گڑ گڑانا اور اس سے داد رسی کی امید رکھنا بھی کار عبث ہے۔وَمَا دُعَاۗءُ الْكٰفِرِيْنَ اِلَّا فِيْ ضَلٰلٍ یہ لوگ جو اللہ کے علاوہ کسی کو پکارتے ہیں ان کی یہ پکار لاحاصل ہے ایک تیر بےہدف اور صدا بہ صحرا ہے۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

اگر آپ ہاتھ پھیلا کر سمندر کے پانی کو پکاریں تو ایسا کبھی نہیں ہوگا کہ سمندر آپ کی پکار کو سنے اور اس کا پانی سمندر کی گہرائیوں سے نکل کر آپ کی طرف آئے اور آپ کے کھیتوں اور باغوں کو سیراب کرے۔ مگر اسی سمندر کے ساتھ ایسا ہوتاہے کہ قدرت کے قانون کے تحت اس کا پانی نمک کے جز کو چھوڑ کر فضا میں بلند ہوتاہے۔ پھر گرمی اور کشش اور ہواکے عمل سے متحرک ہو کر وہ آپ کی بستی کے اوپر آتاہے اور میٹھے پانی کی صورت میں برس کر آپ کی زمین کو سیراب کردیتاہے۔ اس سے معلو م ہوا کہ سمندر بظاہر عظیم ہونے کے باوجود سراسر عاجز ہے اس کو کسی قسم کا ذاتی اختیار حاصل نہیں۔

یہی اس دنیا کی تمام چیزوں کا حال ہے۔ ایسی حالت میں عقل مند انسان صرف وہ ہے جو خالق کو پوجے، نہ کہ مخلوق کو، جو چیزوں کے رب کو اپنا مرکز توجہ بنائے، نہ کہ خود چیزوں کو۔


Connections

  • Previous: 13_13
  • Next: 13_15
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes