Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 12:95 Prev 12:93


Arabic

وَلَمَّا فَصَلَتِ ٱلۡعِيرُ قَالَ أَبُوهُمۡ إِنِّي لَأَجِدُ رِيحَ يُوسُفَۖ لَوۡلَآ أَن تُفَنِّدُونِ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

جب یہ قافلہ (مصر سے) روانہ ہوا تو ان کے باپ نے (کنعان میں) کہا “میں یوسفؑ کی خوشبو محسوس کر رہا ہوں، تم لوگ کہیں یہ نہ کہنے لگو کہ میں بڑھاپے میں سٹھیا گیا ہوں


English (Sahih International)

And when the caravan departed [from Egypt], their father said, “Indeed, I find the smell of Joseph [and would say that he was alive] if you did not think me weakened in mind


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 94 وَلَمَّا فَصَلَتِ الْعِيْرُ قَالَ اَبُوْهُمْ اِنِّىْ لَاَجِدُ رِيْحَ يُوْسُفَ لَوْلَآ اَنْ تُفَنِّدُوْنِ یہاں پر یہ بات قابل غور ہے کہ جونہی حضرت یوسف کی قمیص لے کر قافلہ مصر سے چلا اسی لمحے کنعان میں حضرت یعقوب کو اپنے بیٹے کی خوشبو پہنچ گئی۔ مگر اس سے پہلے ایک طویل عرصے تک آپ نے اپنے بیٹے کے ہجر میں رو رو کر اپنی آنکھیں سفید کرلیں مگر یہ خوشبو نہیں آئی۔ اس سے یہ نکتہ واضح ہوتا ہے کہ کوئی نبی ہو یا ولی ‘ کسی معجزے یا کرامت کا ظہور کسی بھی شخصیت کا ذاتی کمال نہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی خاص عنایت ہے۔ وہ جس کو جس وقت جو علم چاہے عطا فرما دے یا اس کے ہاتھوں جو چاہے دکھا دے۔ جیسے ایک دفعہ حضرت عمر کو مسجد نبوی میں خطبہ کے دوران اللہ تعالیٰ نے شام کے علاقے میں واقع اس میدان جنگ کا نقشہ دکھا دیا جہاں اس وقت اسلامی افواج برسر پیکار تھیں اور آپ نے فوج کے کمانڈر ساریہ کو ایک حربی تدبیر اختیار کرنے کی بآواز بلند تلقین فرمائی۔ جناب ساریہ نے میدان جنگ میں حضرت عمر کی آواز سنی اور آپ کی ہدایت پر عمل کیا۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ حضرت عمر کو اختیار تھا کہ جب چاہتے ایسا منظر دیکھ لیتے۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 94 to 98.

حضرت یوسف اپنے باپ سے جدا ہو کر 20 سال سے زیادہ مدّت تک پڑوسی ملک مصر میں رہے۔ مگر حضرت یعقوب کو اس کا علم نہ ہوسکا۔ البتہ آخر وقت میں آپ کا پیرہن مصر سے چلا تو آپ کو اس کے پہنچنے سے پہلے اس کی خوشبو محسوس ہونے لگی۔ اس سے معلوم ہوا کہ پیغمبروں کا علم ان کا ذاتی علم نہیں ہوتا بلکہ خدا کا عطیہ ہوتا ہے۔ اگر ذاتی علم ہوتا تو حضرت یعقوب پہلے ہی جان لیتے کہ ان کے صاحب زادے مصر میں ہیں۔ مگر ایسا نہیںہوا۔ آپ حضرت یوسف کے بارے میں صرف اس وقت مطلع ہوئے جب کہ اللہ نے آپ کو اس کی خبر دی۔

حضرت یعقوب کے ساتھ آپ کے خاندان والوں کی گفتگوئیں جو اس سورہ میں مختلف مقامات پر نقل ہوئی ہیں ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ خاندان والوں کی نظر میں حضرت یعقوب کووہ عظمت حاصل نہ تھی جو ایک پیغمبر کے لیے ہونی چاہیے۔ وہی لوگ جو ماضی کے بزرگوں کی پرستش کررہے ہوتے ہیں وہ زندہ بزرگوں کی عظمت ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مُردہ بزرگوں کے گرد ہمیشہ مبالغہ آمیز قصوں اور طلسماتی کہانیوں کا ہالہ بنا دیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ سے لوگوں کے ذہن میں ’’بزرگ‘‘ کی ایک مصنوعی تصویر بیٹھ جاتی ہے۔ چونکہ زندہ بزرگ اس مصنوعی تصویر کے مطابق نہیں ہوتا اس لیے وہ لوگوں کو بزرگ بھی نظر نہیں آتا۔


Connections

  • Previous: 12_93
  • Next: 12_95
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes