Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 12:60 Prev 12:58


Arabic

وَلَمَّا جَهَّزَهُم بِجَهَازِهِمۡ قَالَ ٱئۡتُونِي بِأَخٖ لَّكُم مِّنۡ أَبِيكُمۡۚ أَلَا تَرَوۡنَ أَنِّيٓ أُوفِي ٱلۡكَيۡلَ وَأَنَا۠ خَيۡرُ ٱلۡمُنزِلِينَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

پھر جب اس نے ان کا سامان تیار کروا دیا تو چلتے وقت ان سے کہا، “اپنے سوتیلے بھائی کو میرے پاس لانا دیکھتے نہیں ہو کہ میں کس طرح پیمانہ بھر کر دیتا ہوں اور کیسا اچھا مہمان نواز ہوں


English (Sahih International)

And when he had furnished them with their supplies, he said, “Bring me a brother of yours from your father. Do not you see that I give full measure and that I am the best of accommodators


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

This commentary covers ayaat 59 to 61.

آیت 59 وَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ قَالَ ائْتُوْنِيْ بِاَخٍ لَّكُمْ مِّنْ اَبِيْكُمْ غلہ چونکہ راشن بندی کے تحت دیا جاتا تھا اس لیے انہوں نے درخواست کی ہوگی کہ ہمارا ایک بھائی اور بھی ہے اس کے اہل خانہ بھی ہیں اسے ہم اپنے والد کی خدمت کے لیے پیچھے چھوڑ آئے ہیں اس کے حصے کا غلہ بھی ہمیں دے دیا جائے۔ اس سلسلے میں سوال و جواب کے دوران انہوں نے یہ بھی بتایا ہوگا کہ ہم دس حقیقی بھائی ہیں جبکہ وہ گیا رہواں بھائی باپ کی طرف سے سگا لیکن والدہ کی طرف سے سوتیلا ہے۔ حضرت یوسف نے یہ سارا ماجرا سننے کے بعد فرمایا ہوگا کہ ٹھیک ہے میں آپ کے گیارہویں بھائی کے حصے کا اضافی غلہ تم لوگوں کو اس شرط پردے دیتا ہوں کہ آئندہ جب تم لوگ غلہ لینے کے لیے آؤ گے تو اپنے اس بھائی کو ساتھ لے کر آؤ گے تاکہ میں تصدیق کرسکوں کہ تم لوگوں نے غلط بیانی کر کے مجھ سے اضافی غلہ تو نہیں لیا۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

The commentary on this ayah is given with ayah 12:58.


Connections

  • Previous: 12_58
  • Next: 12_60
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes