Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Prev 12:110


Arabic

لَقَدۡ كَانَ فِي قَصَصِهِمۡ عِبۡرَةٞ لِّأُوْلِي ٱلۡأَلۡبَٰبِۗ مَا كَانَ حَدِيثٗا يُفۡتَرَىٰ وَلَٰكِن تَصۡدِيقَ ٱلَّذِي بَيۡنَ يَدَيۡهِ وَتَفۡصِيلَ كُلِّ شَيۡءٖ وَهُدٗى وَرَحۡمَةٗ لِّقَوۡمٖ يُؤۡمِنُونَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

اگلے لوگوں کے ان قصوں میں عقل و ہوش رکھنے والوں کے لیے عبرت ہے یہ جو کچھ قرآن میں بیان کیا جا رہا ہے یہ بناوٹی باتیں نہیں ہیں بلکہ جو کتابیں اس سے پہلے آئی ہوئی ہیں انہی کی تصدیق ہے اور ہر چیز کی تفصیل اور ایمان لانے والوں کے لیے ہدایت اور رحمت


English (Sahih International)

There was certainly in their stories a lesson for those of understanding. Never was the Qur’an a narration invented, but a confirmation of what was before it and a detailed explanation of all things and guidance and mercy for a people who believe


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

مَا كَانَ حَدِيْثًا يُّفْتَرٰى وَلٰكِنْ تَصْدِيْقَ الَّذِيْ بَيْنَ يَدَيْهِ یعنی یہ واقعات تورات میں بھی ہیں اور قرآن انہی واقعات کی تصدیق کررہا ہے۔ حضرت یوسف کے قصے کے سلسلے میں مولانا ابوالاعلیٰ مودودی نے بہت عمدگی کے ساتھ تورات اور قرآن کا تقابلی مطالعہ پیش کیا ہے ‘ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ قرآن کے حسن بیان اور اس کے حکیمانہ انداز کا معیار اس قدر بلند ہے کہ تورات میں اس کا عشر عشیر بھی نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اصل تورات تو گم ہوگئی تھی۔ بعد میں حافظے کی مدد سے جو تحریریں مرتب کی گئیں ان میں ظاہر ہے وہ معیار تو پیدا نہیں ہوسکتا تھا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ تورات میں تھا۔وَتَفْصِيْلَ كُلِّ شَيْءٍ وَّهُدًى وَّرَحْمَةً لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ یعنی وہ علم جو اس دنیا میں انسان کے لیے ضروری ہے اور وہ راہنمائی جو دنیوی زندگی میں اسے درکار ہے سب کچھ اس قرآن میں موجود ہے۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

پچھلے پیغمبروں اور ان کی قوموں کی کہانی عبرت کے اعتبار سے تمام انسانوں کی کہانی ہے۔ اگر آدمی عقل سے کام لے تو وہ ماضی کے واقعہ میں حال کی نصیحت پالے گا۔ دوسروں کے انجام کو دیکھ کر وہ اپنے احوال کو درست کرلے گا۔

قرآن کسی انسان کی گھڑی ہوئی کتاب نہیں، وہ خدا کی طرف سے اتری ہوئی کتاب ہے۔ وہ عین اس پیشین گوئی کے مطابق آئی ہے جو پچھلی آسمانی کتابوں میں کی گئی تھی۔ اس میں ہدایت سے متعلق ہر ضروری چیز کا بیان موجود ہے۔ وہ اپنے آغاز کے اعتبار سے انسانوں کے لیے رہنمائی ہے اور اپنے انجام کے اعتبار سے ان کے لیے رحمت۔


Connections

  • Previous: 12_110
  • Next: (End of Surah)
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes