Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
۞رَبِّ قَدۡ ءَاتَيۡتَنِي مِنَ ٱلۡمُلۡكِ وَعَلَّمۡتَنِي مِن تَأۡوِيلِ ٱلۡأَحَادِيثِۚ فَاطِرَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ أَنتَ وَلِيِّۦ فِي ٱلدُّنۡيَا وَٱلۡأٓخِرَةِۖ تَوَفَّنِي مُسۡلِمٗا وَأَلۡحِقۡنِي بِٱلصَّـٰلِحِينَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اے میرے رب، تو نے مجھے حکومت بخشی اور مجھ کو باتوں کی تہ تک پہنچنا سکھایا زمین و آسمان کے بنانے والے، تو ہی دنیا اور آخرت میں میرا سرپرست ہے، میرا خاتمہ اسلام پر کر اور انجام کار مجھے صالحین کے ساتھ ملا
English (Sahih International)
My Lord, You have given me [something] of sovereignty and taught me of the interpretation of dreams. Creator of the heavens and earth, You are my protector in this world and in the Hereafter. Cause me to die a Muslim and join me with the righteous
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
The commentary on this ayah is given with ayah 12:100.
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
غیر مومن ہر چیز کو انسان کے اعتبارسے دیکھتا ہے اور مومن ہر چیز کو خدا کے اعتبار سے۔ حضرت یوسف کو اعلیٰ حکومتی عہدہ ملا تو اس کو بھی انھوںنے خدا کا عطیہ قرار دیا۔ ان کو تاویل اور تعبیر کا علم حاصل ہوا تو انھوںنے کہا کہ یہ مجھ کو خدا نے سکھایا ہے۔ ان کے اپنوں نے انھیں مصیبت میں ڈالا تو اس کو بھی انھوں نے اس نظر سے دیکھا کہ یہ خدا کی لطیف تدبیریں تھی جن کے ذریعہ وہ مجھ کو ارتقائی سفر کرارہا تھا۔
خدا کی عظمت کے احساس نے ان سے ذاتی عظمت کے تمام احساسات چھین ليے تھے۔ دنیوی بلندی کی چوٹی پر پہنچ کر بھی ان کی زبان سے جو الفاظ نکلے وہ یہ تھے — خدایا، تو ہی تمام طاقتوں کا مالک ہے۔ تو ہی میرے سب کام بنانے والا ہے۔ تو دنیا اور آخرت میں میری مدد فرما۔ مجھ کو ان لوگوں میں شامل فرما جو دنیا میں تیری پسند پر چلنے کی توفیق پاتے ہیں اور آخرت میں تیرا ابدی انعام حاصل کرتے ہیں۔