Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
قُلۡ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلۡفَلَقِ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
کہو، میں پناہ مانگتا ہوں صبح کے رب کی
English (Sahih International)
Say, “I seek refuge in the Lord of daybreak
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 1{ قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ۔ } ”کہو کہ میں پناہ میں آتا ہوں صبح کے رب کی۔“ فَلَقَ یَفْلِقُکے معنی کسی چیز کو پھاڑنے کے ہیں۔ سورة الانعام کی آیت 96 میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کے حوالے سے { فَالِقُ الْاِصْبَاحِ } کے الفاظ آئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ رات کی تاریکی کا پردہ چاک کر کے سپیدئہ سحر نمودار کرتا ہے۔ البتہ اسی سورت کی آیت 95 میں یہ لفظ دانوں اور گٹھلیوں وغیرہ کے پھاڑنے کے مفہوم میں بھی استعمال ہوا ہے : { اِنَّ اللّٰہَ فَالِقُ الْحَبِّ وَالنَّوٰی }۔ یعنی اللہ تعالیٰ اپنی قدرت سے زمین کے اندر دانوں یا گٹھلیوں کو پھاڑتا ہے تو پودوں یا درختوں کی پتیاں اور جڑیں نکلتی ہیں۔ چناچہ فلق سے مراد یہاں صرف صبح ہی نہیں بلکہ ہر وہ چیز ہے جسے اللہ تعالیٰ نے عدم کا پردہ چاک کر کے وجود بخشا ہے۔ جیسے کہ اگلی آیت میں واضح کردیا گیا :
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 1 to 5.
اللہ وہ ہے جو رات کی تاریکی کو پھاڑ کر اس کے اندر سے صبح کی روشنی نکالتا ہے۔ یہی خدا ایسا کرسکتا ہے کہ وہ آفتوں کے سیاہ بادل کو انسان سے ہٹائے اور اس کو عافیت کے اجالے میں لے آئے۔
موجودہ دنیا امتحان کی مصلحت کے تحت بنائی گئی ہے۔ اس لیے یہاں خیر کے ساتھ شر بھی شامل ہے۔ اس شر سے بچنے کی تدبیر صرف یہ ہے کہ آدمی اس کے مقابلہ میں اللہ کی پناہ حاصل کرے۔ یہ شر بہت قسم کے ہیں۔ مثلاً وہ شر جو بدباطن لوگ رات کی تاریکی میں کرتے ہیں۔ جادو کرنے والے لوگ جو اکثر گرہوں میں پھونک مار کر جادو کا عمل کرتے ہیں۔ اسی طرح وہ لوگ جو کسی کو اچھے حال میں دیکھ کر جلن میں مبتلا ہوجائیں اور اس کو اپنی حاسدانہ کارروائیوں کا شکار بنائیں۔ مومن کو ایسے تمام لوگوں سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہيے۔ اور بلا شبہ اللہ ہی یہ طاقت رکھتا ہے کہ شر کی تمام قسموں سے انسان کو پناہ دے سکے۔
Connections
- Previous: (Start of Surah)
- Next: 113_2
- Thematic: (add links here)