Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 111:4 Prev 111:2


Arabic

سَيَصۡلَىٰ نَارٗا ذَاتَ لَهَبٖ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

ضرور وہ شعلہ زن آگ میں ڈالا جائے گا


English (Sahih International)

He will [enter to] burn in a Fire of [blazing] flame


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 3{ سَیَصْلٰی نَارًا ذَاتَ لَہَبٍ۔ } ”عنقریب وہ جھونکا جائے گا بھڑکتی ہوئی آگ میں۔“ لَہَبکے معنی آگ کے شعلے اور انگارے کے ہیں۔ اس شخص کی کنیت ابولہب کے حوالے سے یہاں اس لفظ کا استعمال ”صنعت ِ لفظی“ کی بہترین مثال ہے۔ اس کا اصل نام عبدالعزیٰ تھا ‘ لیکن اپنی سرخ وسفید رنگت کی وجہ سے ”ابولہب“ شعلہ رو کی کنیت سے مشہور تھا۔ ظاہری اعتبار سے ابولہب بہت وجیہہ اور خوبصورت شخص تھا۔ اس پس منظر میں اس آیت کے الفاظ گویا یہ پیغام دے رہے ہیں کہ اس شخص کو سرخ وسفید رنگت اور خوبصورت شکل و صورت بھی ہم نے عطا کی ہے اور جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ میں بھی اسے ہم ہی جھونکیں گے۔ ] قرآن مجید کا یہ واحد مقام ہے جہاں دشمنانِ اسلام میں سے کسی شخص کا نام لے کر اس کی مذمت کی گئی ہے ‘ حالانکہ مکہ ‘ مدینہ اور دیگر قبائل عرب میں حضور ﷺ کے دشمنوں اور بدخواہوں کی کمی نہ تھی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ابولہب حضور ﷺ کا حقیقی چچا اور قریب ترین ہمسایہ ہونے کے باوجود آپ ﷺ کی مخالفت میں پیش پیش تھا اور اس شخص نے اسلام کی دشمنی اور کفر کی محبت میں صلہ رحمی اور خاندانی حمیت جیسی عرب روایات کا بھی کچھ پاس نہ کیا۔ [


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

The commentary on this ayah is given with ayah 111:1.


Connections

  • Previous: 111_2
  • Next: 111_4
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes