Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 11:92 Prev 11:90


Arabic

قَالُواْ يَٰشُعَيۡبُ مَا نَفۡقَهُ كَثِيرٗا مِّمَّا تَقُولُ وَإِنَّا لَنَرَىٰكَ فِينَا ضَعِيفٗاۖ وَلَوۡلَا رَهۡطُكَ لَرَجَمۡنَٰكَۖ وَمَآ أَنتَ عَلَيۡنَا بِعَزِيزٖ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

انہوں نے جواب دیا “اے شعیبؑ، تیری بہت سی باتیں تو ہماری سمجھ ہی میں نہیں آتیں اور ہم دیکھتے ہیں کہ تو ہمارے درمیان ایک بے زور آدمی ہے، تیری برادری نہ ہوتی تو ہم کبھی کا تجھے سنگسار کر چکے ہوتے، تیرا بل بوتا تو اتنا نہیں ہے کہ ہم پر بھاری ہو


English (Sahih International)

They said, “O Shu’ayb, we do not understand much of what you say, and indeed, we consider you among us as weak. And if not for your family, we would have stoned you [to death]; and you are not to us one respected


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 91 قَالُوْا يٰشُعَيْبُ مَا نَفْقَهُ كَثِيْرًا مِّمَّا تَقُوْلُ جب ذہنوں کے سانچے بگڑ جائیں اور سوچوں کے زاویے بدل جائیں تو پھر سیدھی بات بھی سمجھ میں نہیں آتی۔وَاِنَّا لَنَرٰىكَ فِيْنَا ضَعِيْفًا ۚ وَلَوْلَا رَهْطُكَ لَرَجَمْنٰكَ ۡ وَمَآ اَنْتَ عَلَيْنَا بِعَزِيْزٍ یہاں پر ایک اہم نکتہ یہ سمجھ لیں کہ جس زمانے میں جو سورت نازل ہوئی ہے اس میں نبی اکرم اور آپ کے صحابہ کرام کو پیش آنے والے معروضی حالات کے ساتھ تطابق پیدا کیا گیا ہے۔ یعنی گزشتہ اقوام کے واقعات جو مختلف سورتوں میں تواتر کے ساتھ بار بار آئے ہیں یہ تکرار محض نہیں ہے ‘ بلکہ حضور کی دعوت و تحریک کو جس دور میں جن مسائل کا سامنا ہوتا تھا اس خاص دور میں نازل ہونے والی سورتوں میں ان مسائل کی مناسبت سے پچھلی اقوام کے حالات و واقعات سے وہ باتیں نمایاں کی جاتی تھیں جن میں حضور اور اہل ایمان کے لیے راہنمائی اور دلجوئی کا سامان موجود ہوتا۔ چناچہ آیت زیر نظر میں حضرت شعیب کے خاندان اور قبیلے کی حمایت کی بات اس لیے ہوئی ہے کہ ادھر مکہ میں حضور کو بھی کچھ ایسے ہی حالات کا سامنا تھا۔ اس زمانے میں بنو ہاشم کے سردار آپ کے چچا ابو طالب تھے جنہیں حضور سے بہت محبت تھی اور آپ نے اپنے بچپن کا کچھ عرصہ ان کے سایہ عاطفت میں گزارا تھا۔ انہی کی وجہ سے آپ کو پورے قبیلہ بنی ہاشم کی پشت پناہی حاصل تھی۔ اگر اس وقت بنوہاشم کی سرداری کہیں ابولہب کے پاس ہوتی تو آپ کو اپنے خاندان اور قبیلہ کی یہ حمایت حاصل نہ ہوتی اس طرح مشرکین مکہ کو آپ کے خلاف معاذ اللہ کوئی انتہائی اقدام کرنے کا موقع مل جاتا۔ لہٰذا یہاں حالات میں تطابق اس طرح پیدا کیا گیا ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے آج مکہ میں بنو ہاشم کی حمایت سے محمد رسول اللہ کو ایک محفوظ قلعہ مہیا فرما دیا ہے ‘ بالکل اسی نوعیت کی حفاظت اس وقت اللہ تعالیٰ نے حضرت شعیب کو ان کے خاندان کی حمایت کی صورت میں بھی عطا فرمائی تھی۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 91 to 93.

حضرت شعیب کو حدیث میں خطیب الانبیاء کہاگیا ہے۔ آنجناب اپنی قوم کو اس کی اپنی قابل فہم زبان میں نہایت موثر انداز میں سمجھاتے تھے۔ پھر آپ کی بات قوم کی سمجھ میں کیوں نہیں آئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ قوم کا ذہنی سانچہ (شاكله)بگڑا ہوا تھا۔ اس کے سوچنے کا انداز اور تھا اور حضرت شعیب کے سوچنے کا انداز اور۔ اس بنا پر آنجناب کی بات اس کی سمجھ میں نہ آسکی۔

قوم انسانوں کی تعظیم میں گم تھی۔ آپ اس کو ایک اللہ کی تعظیم کی طرف بلاتے تھے۔ وہ خوش عقیدگی کو نجات کا ذریعہ سمجھے ہوئے تھی، آپ کا کہنا تھا کہ صرف عمل کے ذریعہ نجات ہوسکتی ہے۔ قوم کا خیال تھا کہ وہ اپنے کو مومن سمجھتی ہے اس لیے وہ مومن ہے۔ آپ نے کہا کہ مومن وہ ہے جو خدا کی میزان میں مومن قرار پائے۔ قوم کے نزدیک نماز کی حیثیت بس ایک غیر موثر قسم کے رسمی ضمیمہ کی تھی، آپ نے اعلان کیا کہ نماز آدمی کی زندگی اور اس کے آمد وخرچ کی محاسب ہے۔ قوم سمجھتی تھی کہ ایمان بس ایک بے روح اقرار ہے، آپ نے بتایا کہ ایمان وہ ہے جو ایک زندہ شعور کے طور پر حاصل ہوا ہو۔

اس طرح حضرت شعیب اور ان کی قوم کے درمیان ایک قسم کا فصل (gap) پیدا ہوگیا تھا۔ یہی ذہنی فصل قوم کے لیے آپ کی سیدھی اور سچی بات کو سمجھنے میں رکاوٹ بنا رہا۔

’’اگر تمھارا قبیلہ نہ ہوتا تو ہم تم کو سنگسار کردیتے‘‘— یہ جملہ بتاتا ہے کہ حضرت شعیب کی قوم کس قدر بے حس اور ظاہر پرست ہوچکی تھی۔ قصہ یہ تھا کہ حضرت شعیب نے جب قوم کے دینی بھرم کو بے نقاب کیا تو قوم کے لوگ ان کے دشمن بن گئے۔ اس وقت حضرت شعیب کے ساتھ نہ عوام کی بھیڑ تھی جو لوگوں کو روکے اور نہ آپ دولت اورحیثیت کے مالک تھے جس کو دیکھ کر لوگ مرعوب ہوں۔ آپ کے پاس صرف صداقت اور معقولیت کا زور تھا اور ایسے لوگوں کے نزدیک صرف صداقت اور معقولیت کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔

ایسی حالت میں وہ یقیناً آپ پر قاتلانہ حملہ کردیتے۔ تاہم جس چیز نے انھیں اس قسم کے اقدام سے روکا وہ قبیلہ کے انتقام کا اندیشہ تھا۔ قبائلی دور میں قبیلہ کے کسی فرد کو مارنے کا مطلب یہ تھا کہ قبائلی دستور کے مطابق پورا قبیلہ اس سے خون کا بدلہ لینے کے لیے اُٹھ کھڑا ہوجائے۔ یہ اندیشہ قوم شعیب کے لیے آپ کے خلاف کسی انتہائی اقدام میں مانع بن گیا۔ ٹھیک اسی طرح جیسے موجودہ زمانہ میں شریر افراد کی شرارت سے اکثر اوقات لوگ اس لیے محفوظ رہتے ہیں کہ ان کو اندیشہ ہوتاہے کہ اگر انھوں نے کوئی جارحیت کی تو ان کو پولیس اور عدالت کا سامنا کرنا پڑے گا۔


Connections

  • Previous: 11_90
  • Next: 11_92
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes