Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 11:81 Prev 11:79


Arabic

قَالَ لَوۡ أَنَّ لِي بِكُمۡ قُوَّةً أَوۡ ءَاوِيٓ إِلَىٰ رُكۡنٖ شَدِيدٖ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

لوطؑ نے کہا “کاش میرے پاس اتنی طاقت ہوتی کہ تمہیں سیدھا کر دیتا، یا کوئی مضبوط سہارا ہی ہوتا کہ اس کی پناہ لیتا


English (Sahih International)

He said, “If only I had against you some power or could take refuge in a strong support


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 80 قَالَ لَوْ اَنَّ لِيْ بِكُمْ قُوَّةً اَوْ اٰوِيْٓ اِلٰي رُكْنٍ شَدِيْدٍ اس ضمن میں نبی اکرم نے فرمایا : یَرْحَمُ اللّٰہُ لُوْطًا لَقَدْ کَانَ یَاْوِیْ اِلٰی رُکْنٍ شَدِیْدٍ 1 ”اللہ رحم فرمائے لوط علیہ السلام پر وہ ایک مضبوط قلعہ میں ہی تو تھے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ کی پشت پناہی اور حفاظت تو حضرت لوط کو حاصل تھی۔ لیکن اس وقت جو صورت حال بن گئی تھی اس میں بر بنائے طبع بشری پریشانی اور خوف کا طاری ہوجانا نبوت کی عصمت کے منافی نہیں ہے۔ جیسے حضرت موسیٰ بھی وقتی طور پر جادوگروں کے سانپوں سے ڈر گئے تھے۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 80 to 83.

حضرت لوط ابتداء ً آنے والے نوجوانوں کو انسان سمجھ رہے تھے۔جب حضرت لوط کی پریشانی بڑھی اور وہ اپنے کو خطرہ ميں محسوس کرنے لگے تو انھوںنے بتایا کہ ہم فرشتے ہیں۔ اور خدا کی طرف سے بھیجے گئے ہیں۔ یعنی یہ معاملہ انسانی معاملہ نہیں بلکہ خدائی معاملہ ہے۔ وہ نہ ہمارا کچھ بگاڑ سکیں گے اور نہ تمھارا۔ چنانچہ روایات میں آتا ہے کہ جب قوم لوط کے لوگ آگے بڑھنے سے نہ رکے تو ایک فرشتہ نے اپنا بازو گھمایا۔ اس کے بعد وہ سب کے سب اندھے ہوگئے اور یہ کہتے ہوئے لوٹ گئے کہ— بھاگو، لوط کے مہمان تو بڑے جادو گر معلوم ہوتے ہیں۔

جب خدا کسی قوم کو اس کی سرکشی کی بنا پر ہلاک کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو یہ اس پورے علاقے کے لیے ایک عام حکم ہوتا ہے۔ ایسے موقع پر اس علاقے میں بسنے والے تمام جاندار خدائی عذاب کی لپیٹ میں آجاتے ہیں۔ البتہ خدا کے خصوصی انتظامات کے تحت وہ لوگ اس سے بچا لیے جاتے ہیں جنھوں نے ان سرکش لوگوں کے اوپر حق کا اعلان کیا ہو۔ اعلانِ حق خدا کی پکڑ سے بچنے کی سب سے بڑی ضمانت ہے۔ موجودہ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔

حضرت لوط کی بیوی کے بارے میں روایات میں آتا ہے کہ وہ دل سے حضرت لوط کے ساتھ نہ تھی۔ مگر آخر وقت میں جب حضرت لوط یہ کہہ کر بستی سے نکلے کہ صبح تک یہاں عذاب آجائے گا تو وہ بھی آپ کے قافلہ کے ساتھ ہوگئی۔ تاہم ابھی یہ لوگ راستے میں تھے کہ پیچھے زلزلہ اور طوفان کا شور سنائی دیا۔ حضرت لوط اور ا ن کے مخلص ساتھیوں نے پیچھے توجہ نہ دی۔ مگر حضرت لوط کی بیوی پیچھے مڑ کر دیکھنے لگی اور جب اس کو دھواں اور شور دکھائی دیا تو اس کی زبان سے نکلا واقوماہ (ہائے میری قوم)۔اس وقت عذاب کا ایک پتھر آکر اس کو لگا اور وہیں اس کا خاتمہ ہوگیا۔

اس میں سبق یہ ہے کہ ایک شخص اگر واقعۃً خدا اور رسول کا وفادار نہیں ہے تو کسی اور محرک کے تحت قافلۂ حق کے ساتھ لگ جانے سے وہ نجات نہیں پائے گا۔ اس کی کمزوری کہیں نہ کہیں ظاہر ہوگی اور وہیں وہ بیٹھ کر رہ جائے گا۔


Connections

  • Previous: 11_79
  • Next: 11_81
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes