Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَجَآءَهُۥ قَوۡمُهُۥ يُهۡرَعُونَ إِلَيۡهِ وَمِن قَبۡلُ كَانُواْ يَعۡمَلُونَ ٱلسَّيِّـَٔاتِۚ قَالَ يَٰقَوۡمِ هَـٰٓؤُلَآءِ بَنَاتِي هُنَّ أَطۡهَرُ لَكُمۡۖ فَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَلَا تُخۡزُونِ فِي ضَيۡفِيٓۖ أَلَيۡسَ مِنكُمۡ رَجُلٞ رَّشِيدٞ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
(ان مہمانوں کا آنا تھا کہ) اس کی قوم کے لوگ بے اختیار اس کے گھر کی طرف دوڑ پڑے پہلے سے وہ ایسی ہی بد کاریوں کے خوگر تھے لوطؑ نے ان سے کہا “بھائیو، یہ میری بیٹیاں موجود ہیں، یہ تمہارے لیے پاکیزہ تر ہیں کچھ خدا کا خوف کرو اور میرے مہمانوں کے معاملے میں مجھے ذلیل نہ کرو کیا تم میں کوئی بھلا آدمی نہیں؟
English (Sahih International)
And his people came hastening to him, and before [this] they had been doing evil deeds. He said, “O my people, these are my daughters; they are purer for you. So fear Allah and do not disgrace me concerning my guests. Is there not among you a man of reason
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
قَالَ يٰقَوْمِ هٰٓؤُلَاۗءِ بَنَاتِيْ هُنَّ اَطْهَرُ لَكُمْ مفسرین نے اس کے ایک معنی تو یہ مراد لیے ہیں کہ تمہارے گھروں میں تمہاری بیویاں موجود ہیں جو میری بیٹیوں ہی کی مانند ہیں ‘ کیونکہ نبی اپنی پوری قوم کے لیے باپ کی طرح ہوتا ہے۔ جیسے سورة الاحزاب آیت 6 میں حضور کے بارے میں فرمایا گیا ہے : وَاَزْوَاجُہٗٓ اُمَّہٰتُہُمْ کہ آپ کی تمام ازواج مطہرات مؤمنین کی مائیں ہیں۔ اس کے دوسرے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ حضرت لوط نے اپنی بیٹیوں کے بارے میں فرمایا کہ یہ میری بیٹیاں ہیں ان سے جائز اور پاکیزہ طریقے سے نکاح کرلو میں اس کے لیے تیار ہوں لیکن میرے ان مہمانوں کے بارے میں مجھے رسوا نہ کرو۔فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَلَا تُخْزُوْنِ فِيْ ضَيْفِيْ ۭ اَلَيْسَ مِنْكُمْ رَجُلٌ رَّشِيْدٌ کیا تم لوگوں میں کوئی ایک بھی شریف النفس انسان نہیں ہے جو میرا ساتھ دے اور ان سب لوگوں کو بداخلاقی اور بےحیائی سے روکے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
The commentary on this ayah is given with ayah 11:77.