Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 11:75 Prev 11:73


Arabic

فَلَمَّا ذَهَبَ عَنۡ إِبۡرَٰهِيمَ ٱلرَّوۡعُ وَجَآءَتۡهُ ٱلۡبُشۡرَىٰ يُجَٰدِلُنَا فِي قَوۡمِ لُوطٍ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

پھر جب ابراہیمؑ کی گھبراہٹ دور ہو گئی اور (اولاد کی بشارت سے) اس کا دل خوش ہو گیا تو اس نے قوم لوط کے معاملے میں ہم سے جھگڑا شروع کیا


English (Sahih International)

And when the fright had left Abraham and the good tidings had reached him, he began to argue with Us concerning the people of Lot


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

حضرت ابراہیم کا یہ مجادلہ تورات میں بڑی تفصیل سے بیان ہوا ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم نے فرشتوں سے کہا کہ اگر ان بستیوں میں پچاس آدمی بھی راست باز ہوئے تو کیا پھر بھی ان کو ہلاک کردیا جائے گا ؟ فرشتوں نے جواب دیا کہ نہیں ‘ پھر انہیں ہلاک نہیں کیا جائے گا۔ پھر حضرت ابراہیم نے چالیس آدمیوں کا پوچھا تو انہوں نے کہا کہ پھر بھی ان کو تباہ نہیں کیا جائے گا۔ چناچہ اس طرح بات ہوتے ہوتے پانچ آدمیوں پر آگئی۔ اس پر حضرت ابراہیم کو بتایا گیا کہ آپ اس بحث کو چھوڑ دیں۔ اب تو آپ کے رب کا فیصلہ آچکا ہے کیونکہ ان بستیوں میں خود حضرت لوط اور ان کی دو بیٹیوں کے علاوہ کوئی ایک متنفس بھی راست باز نہیں ہے۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 74 to 76.

حضرت ابراہیم کی یہ گفتگو ان فرشتوں سے ہوئی جو قوم لوط کو ہلاک کرنے کے لیے آئے تھے۔ چونکہ یہ فرشتے خدا کی طرف سے اور اس کے حکم کی تعمیل میں آئے تھے، اس لیے خدا نے اس کو اپنی طرف منسوب فرمایا۔ پیغمبر اور فرشتوں کے درمیان اس گفتگو کا ایک جزء سورۂ عنکبوت (آیت

32

) میں مذکور ہے۔ اور اس کا تفصیلی ذکر موجودہ بائبل (پیدائش باب 18 ) میں آیا ہے۔

حضرت ابراہیم کی دعا قوم لوط کے حق میں منظور نہیں ہوئی۔ اسی طرح اس سے پہلے حضرت نوح کی دعا اپنے بیٹے کے لیے منظو ر نہیں ہوئی تھی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مغفرت کی دعا معروف معنوں میں کوئی سفارش نہیں ہے جو کہ ایک شخص دوسرے شخص کے لیے کرے۔ اور وہ دعا کرنے والے کی بزرگی کی بنا پر اس کے حق میں مان لی جائے۔

دعا خود اپنے آپ کو خدا کے سامنے پیش کرنا ہے۔ اگر حضرت نوح کے بیٹے یا حضرت لوط کی قوم کے لوگوں کے اندر خود دعا کا جذبہ ابھر آتا اور وہ اپنی نجات کے لیے خدا کو پکارتے تو یقیناً خدا انھیں معاف کردیتا اور اپنی رحمت ان کی طرف بھیج ديتا ۔ عذاب کا لوٹا دیا جانا ممکن ہے، جیسا کہ حضرت یونس کی قوم کی مثال سے ثابت ہوتاہے۔ مگر وہ جب بھی لوٹے گا خود زیرِ سزا افراد کی دعاؤں سے لوٹے گا، نہ کہ کسی غیر شخص کی دعاؤں سے، خواہ یہ غیر شخص پیغمبر ہی کیوں نہ ہو۔

ایک شخص کو دوسرے شخص کے لیے بھی دعا کرنی چاہیے۔ اور ہرزمانہ میں پیغمبروں نے اور صالح لوگوں نے دوسروں کے لیے دعائیں کی ہیں۔ مگر یہ دعا حقیقۃً خود دعا کرنے والے کے حلیم اور اوّاہ اور منیب ہونے کا اظہار ہوتاہے۔ اللہ کا ایک بندہ جو اللہ سے ڈرتاہو وہ اللہ کے عذاب کو دیکھ کر کانپ اٹھتا ہے اور اپنے لیے اور دوسروں کے لیے دعائیں کرنے لگتا ہے ۔ تاہم کسی کی دعا دوسرے کے حق میں اسی وقت مفیدہوگی جب کہ وہ خود بھی اللہ سے ڈر کر اللہ کو پکار رہا ہو۔


Connections

  • Previous: 11_73
  • Next: 11_75
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes