Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَهُوَ ٱلَّذِي خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٖ وَكَانَ عَرۡشُهُۥ عَلَى ٱلۡمَآءِ لِيَبۡلُوَكُمۡ أَيُّكُمۡ أَحۡسَنُ عَمَلٗاۗ وَلَئِن قُلۡتَ إِنَّكُم مَّبۡعُوثُونَ مِنۢ بَعۡدِ ٱلۡمَوۡتِ لَيَقُولَنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ إِنۡ هَٰذَآ إِلَّا سِحۡرٞ مُّبِينٞ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا جبکہ اس سے پہلے اس کا عرش پانی پر تھا تاکہ تم کو آزما کر دیکھے تم میں کون بہتر عمل کرنے والا ہے اب اگر اے محمدؐ، تم کہتے ہو کہ لوگو، مرنے کے بعد تم دوبارہ اٹھائے جاؤ گے، تو منکرین فوراً بول اٹھتے ہیں کہ یہ تو صریح جادو گری ہے
English (Sahih International)
And it is He who created the heavens and the earth in six days - and His Throne had been upon water - that He might test you as to which of you is best in deed. But if you say, “Indeed, you are resurrected after death,” those who disbelieve will surely say, “This is not but obvious magic
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 7 وَهُوَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِيْ سِتَّةِ اَيَّامٍ وَّكَانَ عَرْشُهٗ عَلَي الْمَاۗءِ میرے نزدیک یہ آیت آج بھی متشابہات میں سے ہے ‘ لیکن شاید یہ اس دور کی طرف اشارہ ہے جب یہ دنیا معرض وجود میں آئی۔ زمین کی تخلیق کے بارے میں سائنسی اور تاریخی ذرائع سے اب تک ملنے والی معلومات کو مجتمع کر کے جو آراء سامنے آئی ہیں ان کے مطابق زمین جب ٹھنڈی ہونی شروع ہوئی تو اس سے بخارات اور مختلف اقسام کی گیسیں خارج ہوئیں۔ انہی گیسوں میں سے ہائیڈروجن اور آکسیجن کے ملنے سے پانی پیدا ہوا جو لاکھوں سال تک بارشوں کی صورت میں زمین پر برستا رہا۔ پھر جب زمین ٹھنڈی ہو کر سکڑی تو اس کی سطح پر نشیب و فراز پیدا ہونے سے پہاڑ اور سمندر وجود میں آئے۔ اس وقت تک کسی قسم کی کوئی مخلوق پیدا نہیں ہوئی تھی۔ یہ وہ دور تھا جس کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ اس زمین کی حد تک اللہ تعالیٰ کا تخت حکومت اس کا تصور انسانی ذہن سے ماوراء ہے پانی پر تھا۔ پھر وہ دور آیا جب زمین کی آب وہوا زندگی کے لیے موافق ہوئی تو مٹی اور پانی سے وجود میں آنے والے دلدلی علاقوں میں نباتاتی یا حیوانی مخلوق کی ابتدائی شکلیں پیدا ہوئیں۔ واللہ اعلم ! لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلاً یعنی انسانی زندگی کا وہ حصہ جو اس دنیا میں گزرتا ہے اس کا اصل مقصد امتحان ہے۔ علامہ اقبال نے اس شعر میں اس آیت کی بہت خوبصورت ترجمانی کی ہے :قلزم ہستی سے تو ابھرا ہے مانند حباب اس زیاں خانے میں تیرا امتحاں ہے زندگی !
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 7 and 8.
موجودہ دنیا کو خدا نے چھ دنوں یعنی چھ ادوار (periods) میں پیدا کیا ہے۔ زمین پر ایک ایسا دور گزرا ہے جب کہ اس کی سطح پانی سے ڈھکی ہوئی تھی۔ خدا کی سلطنت کے اس حصہ میں اس وقت صرف پانی نظر آتا تھا۔ ا س کے بعد خدا کے حکم سے خشکی کے علاقے ابھر آئے اور پانی سمندروں کی گہرائی میں جمع ہوگیا۔ اس طرح یہ ممکن ہوا کہ زمین پر موجودہ انواع حیات ظہور میں آئیں۔
خدا اگر چہ قادر ہے کہ واقعات کو اچانک ظاہر کردے۔ مگر یہ دنیا انسان کے لیے بطور امتحان گاہ بنائی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خدا نے موجودہ دنیا کو منصوبہ کے تحت بنایا اور اپنی تخلیقات پر اسباب کا پردہ قائم رکھا۔
دنیا کی پیدائش اور اس پر انسان کی آبادکاری سے خدا کا مقصود اچھا عمل کرنے والے کا انتخاب ہے۔ ’’اچھا عمل ‘‘ دراصل حقیقت پسندانہ عمل کا دوسرا نام ہے۔ یعنی کسی دباؤکے بغیر وہ کرنا جو از روئے حقیقت آدمی کو کرنا چاہیے۔ حقیقت پسند شخص وہ ہے جو اسباب کے ظاہری پردہ سے گزر کر خدا کی چھپی ہوئی کارفرمائی کو دیکھ لے۔ بظاہر اختیار رکھتے ہوئے اپنے آپ کو بے اختیار کرلے۔ سرکشی کی زندگی گزارنے کا موقع رکھتے ہوئے خدا کا تابعدار بن جائے۔
موجودہ دنیا میں ایسے ہی حقیقت پسند انسانوں کا چناؤ ہورہا ہے۔ جب چناؤ کی یہ مدت ختم ہوگی تو موجودہ نظام کو ختم کرکے دوسرا معیاری نظام بنایا جائے گا جہاں تمام اچھی چیزیں صرف اچھا عمل کرنے والوں کے لیے ہوں گی اور تمام بری چیزیں صرف برا عمل کرنے والوں کے لیے۔
اللہ تعالیٰ اپنے قانون مہلت کی وجہ سے منکروں اور سرکشوں کو فوراً نہیں پکڑتا۔ ان کو انتہائی حد تک موقع دیتاہے کہ وہ یا تو متنبہ ہوکر اپنی اصلاح کرلیں یا آخری طورپر اپنے آپ کو مجرم ثابت کردیں۔ یہ قانون مہلت بعض سرکشوں کے لیے غلط فہمی کا سبب بن جاتاہے۔ وہ اپنی حیثیت کو بھول کر بڑی بڑی باتیں کرنے لگتے ہیں۔ مگر جب وہ خدا کی پکڑ میں آجائیںگے اس وقت انھیں معلوم ہوگا کہ وہ خدا کے مقابلہ میں کس قدر بے بس تھے۔