Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَلَقَدۡ جَآءَتۡ رُسُلُنَآ إِبۡرَٰهِيمَ بِٱلۡبُشۡرَىٰ قَالُواْ سَلَٰمٗاۖ قَالَ سَلَٰمٞۖ فَمَا لَبِثَ أَن جَآءَ بِعِجۡلٍ حَنِيذٖ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اور دیکھو، ابراہیمؑ کے پاس ہمارے فرشتے خوشخبری لیے ہوئے پہنچے کہا تم پر سلام ہو ابراہیمؑ نے جواب دیا تم پر بھی سلام ہو پھر کچھ دیر نہ گزری کہ ابراہیمؑ ایک بھنا ہوا بچھڑا (ان کی ضیافت کے لیے) لے آیا
English (Sahih International)
And certainly did Our messengers come to Abraham with good tidings; they said, “Peace.” He said, “Peace,” and did not delay in bringing [them] a roasted calf
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
اب ان آیات میں حضرت ابراہیم کا ذکر آ رہا ہے ‘ مگر آپ کا ذکر انباء الرسل کے طور پر نہیں بلکہ بالکل مختلف انداز میں ہے۔ یہاں رسولوں کے ذکر میں ایک خوبصورت تقسیم کو مد نظر رکھیں کہ اس سورت میں پہلے تین رسول جن کا زمانہ حضرت ابراہیم سے پہلے کا ہے حضرت نوح ‘ حضرت ہود اور حضرت صالح ان کا ذکر کرنے کے بعد حضرت ابراہیم کا ذکر مختصراً قصص النبیین کے انداز میں آیا ہے اور آپ کے ذکر کے بعد پھر تین رسولوں کا تذکرہ ہے جو آپ ہی کی نسل میں سے تھے ‘ بلکہ ان میں سے حضرت لوط تو آپ کے بھتیجے اور ہم عصر بھی تھے۔ یہاں پر حضرت لوط کا ذکر انباء الرسل کے انداز میں آیا ہے اور اسی کے ذیل میں حضرت ابراہیم کا ذکر ہے۔ جب حضرت لوط کی قوم پر عذاب بھیجنے کا فیصلہ ہوا تو عذاب کے فرشتے براہ راست حضرت لوط کے پاس جانے کے بجائے پہلے حضرت ابراہیم کے پاس گئے اور وہاں نہ صرف قوم لوط علیہ السلام پر عذاب کے بارے میں ان کا حضرت ابراہیم کے ساتھ مکالمہ ہوا بلکہ فرشتوں نے حضرت سارہ کو حضرت اسحاق کی ولادت کی خوشخبری بھی دی۔یاد رہے کہ سورة الاعراف میں بھی جب ان چھ رسولوں کا تذکرہ انباء الرسل کے انداز میں ہوا تو وہاں بھی حضرت ابراہیم کا ذکر نہیں کیا گیا اور جب سورة الانعام جو سورة الاعراف کی جڑواں سورت ہے میں حضرت ابراہیم کا تذکرہ آیا تو انباء الرسل کے انداز میں نہیں بلکہ قصص النبیین کے انداز میں آیا ہے۔ یعنی حضرت ابراہیم کا ذکر قرآن حکیم میں اس طرح کہیں بھی نہیں آیا کہ آپ کو اپنی قوم کی طرف مبعوث کیا گیا ہو آپ نے اپنی قوم کو دعوت توحید دی ہو ‘ قوم اس دعوت سے منکر ہوئی ہو اور پھر اس پر عذاب بھیج دیا گیا ہو۔قَالَ سَلٰمٌ فَمَا لَبِثَ اَنْ جَآءَ بِعِجْلٍ حَنِیْذٍ مہمانوں کی آمد کے فوراً بعد حضرت ابراہیم نے ان کی ضیافت کے لیے ایک بچھڑا ذبح کیا اور اسے بھون کر ان کے سامنے پیش کردیا۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 69 to 73.
حضرت ابراہیم کی عمر تقریباً سوسال ہوچکی تھی کہ ایک روز چند انتہائی خوب صورت نوجوان ان کے گھر میں داخل ہوئے۔ حضرت ابراہیم نے ان کو مہمان سمجھ کر فوراً ان کے کھانے کا انتظام کیا۔ مگر وہ انسان نہیں تھے بلکہ خداکے فرشتے تھے۔ وہ بیک وقت دو مقصد کے لیے آئے تھے۔ ایک، حضرت ابراہیم کو اولاد کی بشارت دینا۔ دوسرے، حضرت لوط کی قوم کو ہلاک کرنا جو انکار اور سرکشی کی آخری حد پر پہنچ چکی تھی۔
حضرت ابراہیم اور ان کی اہلیہ کو اسحاق (بیٹے) اور یعقوب (پوتے) کی بشارت دینا عام معنوں میں محض اولاد کی بشارت نہ تھی۔ یہ صالح اور داعی انسانوں کا ایک گھرانا وجود میں لانا تھا۔ تاریخ کا تجربہ ہے کہ اکثر کوئی ’’گھرانا‘‘ ہوتا ہے جو دین حق کی خدمت کے لیے کھڑا ہوتاہے۔ نبیوں کی تاریخ اور نبیوں کے بعد ان کے سچے پیروؤں کے واقعات یہی بتاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک شخص جس پرسچائی کا انکشاف ہوتا ہے وہ اپنے زمانہ کے لوگوں کی نظر میں ایک معمولی انسان ہوتاہے۔ اس بنا پر عام لوگوں کے لیے اس کے مقام کو پہچاننا اور اس کا ساتھ دینا بہت مشکل ہوتا ہے۔ مگر اس کے اپنے گھر والوں کے لیے ذاتی رشتہ ایک مزید وجہ بن جاتاہے۔ جس چیز کو باہر والے ظاہر بینی کی بنا پر دیکھ نہیں پاتے، گھر والے ذاتی تعلق کی بنا پر اس کو محسوس کرلیتے ہیں۔ اور اس کے مشن میںاس کے ساتھی بن جاتے ہیں۔