Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
قَالَ يَٰقَوۡمِ أَرَءَيۡتُمۡ إِن كُنتُ عَلَىٰ بَيِّنَةٖ مِّن رَّبِّي وَءَاتَىٰنِي مِنۡهُ رَحۡمَةٗ فَمَن يَنصُرُنِي مِنَ ٱللَّهِ إِنۡ عَصَيۡتُهُۥۖ فَمَا تَزِيدُونَنِي غَيۡرَ تَخۡسِيرٖ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
صالحؑ نے کہا “اے برادران قوم، تم نے کچھ اس بات پر بھی غور کیا کہ اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک صاف شہادت رکھتا تھا، اور پھر اس نے اپنی رحمت سے بھی مجھ کو نواز دیا تو اِس کے بعد اللہ کی پکڑ سے مجھے کون بچائے گا اگر میں اُس کی نافرمانی کروں؟ تم میرے کس کام آ سکتے ہو سوائے اس کے کہ مجھے اور زیادہ خسارے میں ڈال دو
English (Sahih International)
He said, “O my people, have you considered: if I should be upon clear evidence from my Lord and He has given me mercy from Himself, who would protect me from Allah if I disobeyed Him? So you would not increase me except in loss
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 63 قَالَ يٰقَوْمِ اَرَءَيْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰي بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّيْ حضرت صالح نے بھی وہی بات کہی کہ دیکھو میری گزشتہ زندگی تمہارے سامنے ہے۔ میرا کردار اور میرا اخلاق گواہ ہے کہ میں اس سے پہلے تمہارے معاشرے کا ایک صالح کردار اور سلیم الفطرت انسان تھا۔ وَاٰتٰىنِيْ مِنْهُ رَحْمَةً اور اب میرے پاس اللہ کی طرف سے وحی بھی آگئی ہے اللہ نے اپنی رحمت خاص سے مجھے نبوت سے بھی سرفراز فرما دیا ہے۔فَمَنْ يَّنْصُرُنِيْ مِنَ اللّٰهِ اِنْ عَصَيْتُهٗ ۣ فَمَا تَزِيْدُوْنَنِيْ غَيْرَ تَخْسِيْرٍ یعنی اگر میں اپنی فطرت سلیم اور وحی الٰہی کی راہنمائی کے باوجود اس دعوت حق کو چھوڑ کر تمہیں خوش کرنے کے لیے گمراہی کا طریقہ اختیار کرلوں تو مجھے اللہ تعالیٰ کی گرفت سے کون بچائے گا ؟ تمہاری اس طرح کی باتوں سے تو معلوم ہوتا ہے کہ تم لوگ میری تباہی کے درپے ہو۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
The commentary on this ayah is given with ayah 11:61.