Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 11:6 Prev 11:4


Arabic

أَلَآ إِنَّهُمۡ يَثۡنُونَ صُدُورَهُمۡ لِيَسۡتَخۡفُواْ مِنۡهُۚ أَلَا حِينَ يَسۡتَغۡشُونَ ثِيَابَهُمۡ يَعۡلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعۡلِنُونَۚ إِنَّهُۥ عَلِيمُۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

دیکھو! یہ لوگ اپنے سینوں کو موڑتے ہیں تاکہ اس سے چھپ جائیں خبردار! جب یہ کپڑوں سے اپنے آپ کو ڈھانپتے ہیں، اللہ ان کے چھپے کو بھی جانتا ہے اور کھلے کو بھی، وہ تو اُن بھیدوں سے بھی واقف ہے جو سینوں میں ہیں


English (Sahih International)

Unquestionably, they the disbelievers turn away their breasts to hide themselves from Him. Unquestionably, [even] when they cover themselves in their clothing, Allah knows what they conceal and what they declare. Indeed, He is Knowing of that within the breasts


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 5 اَلاآ اِنَّہُمْ یَثْنُوْنَ صُدُوْرَہُمْ لِیَسْتَخْفُوْا مِنْہُ یہ مقام مشکلات القرآن میں سے ہے اور اس کے بارے میں بہت سے اقوال ہیں۔ ثَنٰی یَثْنِیْ کے معنی پھیرنے ‘ موڑنے اور لپیٹنے کے ہیں۔ مکہ میں رسول اللہ کی دعوت کے مخالفین میں سے کچھ لوگوں کا رویہ ایسا تھا کہ آپ کو آتے دیکھتے تو رخ بدل لیتے یا کپڑے کی اوٹ میں منہ چھپالیتے ‘ تاکہ کہیں آمنا سامنا نہ ہوجائے اور آپ انہیں مخاطب کر کے کچھ اپنی باتیں نہ کہنے لگیں۔ یہاں ایسے لوگوں کی طرف اشارہ ہے کہ یہ لوگ حق کا سامنا اور حقیقت کا مواجہہ کرنے سے گھبراتے ہیں ‘ حالانکہ کسی کے گریز کرنے سے حقیقت غائب نہیں ہوجاتی۔ شتر مرغ طوفان کے دوران اگر ریت میں سر چھپالے تو اس سے طوفان کا رخ تبدیل نہیں ہوجاتا۔ اس کے علاوہ ایک رائے وہ ہے جو بخاری شریف میں حضرت ابن عباس رض کے حوالے سے نقل ہوئی ہے کہ کچھ اہل ایمان پر حیا کا بہت زیادہ غلبہ تھا مثلاً حضرت عثمان ان اصحاب میں بہت نمایاں تھے ایسے لوگ کبھی غسل کے وقت بھی عریاں ہونا پسند نہیں کرتے تھے اور ایسے مواقع پر اس انداز سے جھک جاتے تھے کہ جہاں تک ممکن ہو ستر چھپا رہے۔ اسی طرح قضائے حاجت کے وقت بھی پورے ستر کا اہتمام کرتے تھے۔ اس حوالے سے اس حکم کا منشا یہ ہے کہ تم اس سلسلے میں جو کچھ بھی کرلو ‘ اللہ تعالیٰ کی نگاہوں سے تو نہیں چھپ سکتے ہو۔ لہٰذا ستر چھپانے کے بارے میں جو بھی احکامات ہیں ان کی معروف طریقے سے پیروی کرو۔ اس طرح کے کسی بھی معاملہ میں غلو کی ضرورت نہیں ہے۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 5 and 6.

قریش کے بعض سرداروں نے ایسا کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سامنے توحید کی دعوت پیش کی تو وہ بے پروائی کے ساتھ اٹھے۔ اپنی چادر اپنے اوپر ڈالی اور روانہ ہوگئے۔

یہ دراصل کسی بات کو نظر انداز کرنے کی ایک صورت ہے۔ کوئی آدمی جب داعی کو حقیر سمجھے اور اس کے مقابلہ میں اپنے کو برتر خیال کرے تو اس وقت وہ اسی قسم کا رویہ اختیار کرتاہے۔ مگر آدمی بھول جاتاہے کہ جس نفسیات کے تحت وہ ایسا کر رہا ہے وہ اللہ تعالیٰ کو خوب معلوم ہے۔ یہ صرف ایک انسان (داعی) کو نظر انداز کرنا نہیں ہے بلکہ خود خدا کو نظر انداز کرنا ہے جو ہر کھلے اور چھپے کو جاننے والا ہے۔

پھر آدمی کا حال س وقت کیا ہوگا جب وہ خدا کا سامنا کرے گا۔ وہ دیکھے گا کہ جس خدا کو اس نے نظر انداز کیا تھا وہی وہ ہستی تھا جس سے اس کو وہ سب کچھ ملا تھا جو اس کے پاس تھا۔ حتی کہ وہ اسباب بھی جن کے بَل پر اس نے خدا کی بات کو نظر انداز کردیا تھا۔ آدمی خدا کی دنیا میں ہے اور بالآخر وہ خدا کی طرف جانے والا ہے۔ مگر وہ اس طرح رہتا ہے جیسے کہ نہ آج خدا سے اس کا کوئی تعلق ہے اور نہ آئندہ اس کا خدا سے کوئی واسطہ پڑنے والا ہے۔


Connections

  • Previous: 11_4
  • Next: 11_6
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes