Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 11:46 Prev 11:44


Arabic

وَنَادَىٰ نُوحٞ رَّبَّهُۥ فَقَالَ رَبِّ إِنَّ ٱبۡنِي مِنۡ أَهۡلِي وَإِنَّ وَعۡدَكَ ٱلۡحَقُّ وَأَنتَ أَحۡكَمُ ٱلۡحَٰكِمِينَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

نوحؑ نے اپنے رب کو پکارا کہا “اے رب، میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے اور تیرا وعدہ سچا ہے اور تو سب حاکموں سے بڑا اور بہتر حاکم ہے


English (Sahih International)

And Noah called to his Lord and said, “My Lord, indeed my son is of my family; and indeed, Your promise is true; and You are the most just of judges


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

وَاِنَّ وَعْدَکَ الْحَقُّ وَاَنْتَ اَحْکَمُ الْحٰکِمِیْنَ پروردگار ! تو نے وعدہ کیا تھا کہ تو میرے اہل کو بچا لے گا جبکہ میرا بیٹا تو میری آنکھوں کے سامنے ڈوب گیا۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 45 to 47.

طوفانِ نوح میں جو لوگ غرق ہوئے ان میں خود حضرت نوح کا بیٹا کنعان بھی تھا۔حضرت نوح نے اس کو اپنی کشتی میں بٹھانا چاہا۔ مگر اس کے لیے ڈوبنا مقدر تھا اس لیے وہ نہیں بیٹھا۔ پھر انھوں نے اس کے بچاؤ کے لیے خدا سے دعا کی تو جواب ملا کہ یہ نادانی کا سوال ہے، ایسے سوالات نہ کرو۔

اصل یہ ہے کہ خدا کا فیصلہ اس بنیاد پر نہیں ہوتاکہ جو لوگ بزرگوں کی اولادہیں۔ یا جو کسی حضرت کا دامن تھامے ہوئے ہیں ان سب کو نجات یا فتہ قرار دے کر جنتوں میں داخل کردیا جائے۔ خدا کے یہاں نجات کا فیصلہ خالص عمل کی بنیاد پر ہوتا ہے، نہ کہ نسبی یا گروہی تعلق کی بنیادوںپر۔

دنیا میں اگر نسبی رشتہ کا اعتبار ہے تو آخرت میں اخلاقی رشتہ کا اعتبار۔ طوفانِ نوح اسی لیے آیا تھا کہ انسانوں کے درمیان دوسری تمام تقسیمات کو توڑ کر اخلاقی تقسیم قائم کردے۔ جو عملِ صالح والے لوگ ہیں ان کو خدائی کشتی میں بٹھا کر بچا لیا جائے اورغیر عمل صالح والے تمام لوگوں کو طوفان کی بے رحم موجوں کے حوالے کردیا جائے۔ یہی واقعہ دوبارہ قیامت میں زیادہ بڑے پیمانہ پر اور زیادہ کامل طورپر ہوگا۔


Connections

  • Previous: 11_44
  • Next: 11_46
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes