Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 11:36 Prev 11:34


Arabic

أَمۡ يَقُولُونَ ٱفۡتَرَىٰهُۖ قُلۡ إِنِ ٱفۡتَرَيۡتُهُۥ فَعَلَيَّ إِجۡرَامِي وَأَنَا۠ بَرِيٓءٞ مِّمَّا تُجۡرِمُونَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

اے محمدؐ، کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ اِس شخص نے یہ سب کچھ خود گھڑ لیا ہے؟ ان سے کہو “اگر میں نے یہ خود گھڑا ہے تو مجھ پر اپنے جرم کی ذمہ داری ہے، اور جو جرم تم کر رہے ہو اس کی ذمہ داری سے میں بری ہوں


English (Sahih International)

Or do they say [about Prophet Muhammad], “He invented it”? Say, “If I have invented it, then upon me is [the consequence of] my crime; but I am innocent of what [crimes] you commit


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

This commentary covers ayaat 35 and 36.

آیت 35 اَمْ يَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ ۭ قُلْ اِنِ افْتَرَيْتُهٗ فَعَلَيَّ اِجْرَامِيْ وَاَنَا بَرِيْۗءٌ مِّمَّا تُجْرِمُوْنَ یہ ایک جملہ معترضہ ہے جو حضرت نوح کے ذکر کے درمیان آگیا ہے۔ اس میں رسول اللہ کو مخاطب کر کے فرمایا جا رہا ہے کہ اے نبی ! یہ تمام باتیں جو ہم آپ کو بذریعہ وحی بتاتے ہیں ‘ جیسے حضرت نوح اور آپ کی قوم کی گفت و شنید نقل ہوئی ‘ تو مشرکین مکہ کہتے ہیں کہ یہ باتیں اور قصے آپ خود اپنی طرف سے بنا کر انہیں سناتے ہیں۔ آپ ان پر واضح کردیں کہ میں اگر واقعی یہ جرم کر رہا ہوں تو اس کا وبال بھی مجھ ہی پر آئے گا۔ مگر آپ لوگ اس کے دوسرے پہلو پر بھی غور کریں کہ اگر یہ کلام واقعی اللہ کی طرف سے ہے تو اس کو جھٹلا کر تم لوگ جس جرم کے مرتکب ہو رہے ہو ‘ اس کے نتائج بھی پھر تم لوگوں کو ہی بھگتنا ہیں۔ بہر حال میں علی الاعلان کہے دیتا ہوں کہ میں تمہارے اس جرم سے بالکل بری ہوں۔ اس جملہ معتر ضہ کے بعد حضرت نوح کے ذکر کا سلسلہ دوبارہ وہیں سے جوڑا جا رہا ہے۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

جو لوگ کہتے تھے کہ پیغمبر نے یہ کلام خود گھڑ لیا ہے، یہ خدا کی طرف سے نہیں ہے، وہ وحی والہام کے منکر نہ تھے۔ حتی کہ وہ ماضی کے رسولوں کو مانتے تھے۔ پھر انھوںنے ایسا کیوں کہا۔یہ دراصل وحی کا انکار نہیں تھابلکہ صاحب وحی کا انکار تھا۔ جو شخص خداکی طرف سے بول رہا تھا وہ دیکھنے میں ان کو ایک معمولی انسان دکھائی دیتا تھا۔ ان کا ظاہر پرست مزاج سمجھ نہیں پاتا تھا کہ ایسا ایک آدمی وہ شخص کیسے ہوسکتاہے جس کو خدا نے اپنے پيغام كي پیغام بری کے لیے چناہو۔

’’میرا جرم میرے اوپر، تمھارا جرم تمھارے اوپر‘‘ یہ دارصل کلمہ رخصت ہے۔ جب مخاطب دلیل سے بات کو نہیں مانتا، ہر قسم کی وضاحت کے باوجود وہ انکار پر تلا ہوا ہے تو داعی محسوس کرتاہے کہ اس کے لیے اب آخری چارۂ کار صرف یہ ہے کہ وہ یہ کہہ کر خاموش ہوجائے کہ میں اور تم دونوں حاکم اصلی کے سامنے پیش ہونے والے ہیں۔ وہاں ہر ایک کاحال کھل جائے گا۔اور ہر آدمی اپنی حقیقت کے اعتبار سے جیسا تھا اس کے مطابق اسے بدلہ دیا جائے گا۔ جب دلیل کی حد ختم ہوجائے تو داعی کے لیے اس کے سوا کوئی صورت باقی نہیں رہتی کہ وہ یقین کی زبان میں کلام کرکے علیحدگی اختیار کرلے۔


Connections

  • Previous: 11_34
  • Next: 11_36
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes