Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
مَن كَانَ يُرِيدُ ٱلۡحَيَوٰةَ ٱلدُّنۡيَا وَزِينَتَهَا نُوَفِّ إِلَيۡهِمۡ أَعۡمَٰلَهُمۡ فِيهَا وَهُمۡ فِيهَا لَا يُبۡخَسُونَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
جو لوگ بس اِسی دنیا کی زندگی اور اس کی خو ش نمائیوں کے طالب ہوتے ہیں ان کی کار گزاری کا سارا پھل ہم یہیں ان کو دے دیتے ہیں اور اس میں ان کے ساتھ کوئی کمی نہیں کی جاتی
English (Sahih International)
Whoever desires the life of this world and its adornments - We fully repay them for their deeds therein, and they therein will not be deprived
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 15 مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا وَزِيْنَتَهَا جن لوگوں کا مقصد حیات ہی دنیوی مال و متاع کو حاصل کرنا ہو اور اسی کے لیے وہ رات دن دوڑ دھوپ میں لگے ہوں تو :نُوَفِّ اِلَيْهِمْ اَعْمَالَهُمْ فِيْهَا وَهُمْ فِيْهَا لَا يُبْخَسُوْنَ ان لوگوں کے دل و دماغ پر دنیا پرستی چھائی ہوئی ہے ‘ اور انہوں نے اپنی تمام تر صلاحیتیں دنیوی زندگی کو حسین و دلکش بنانے کے لیے ہی صرف کردی ہیں۔ ان کی ساری منصوبہ بندی اسی دنیا کے مال و متاع کے حصول کے لیے ہے۔ چناچہ ان کی اونچی اونچی عمارات بھی بن گئی ہیں ‘ کاروبار بھی خوب وسیع ہوگئے ہیں ‘ ہر قسم کا سامان آسائش بھی ان کی دسترس میں ہے ‘ عیش و عشرت کے مواقع بھی حسب خواہش انہیں میسر ہیں۔ لیکن انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ :
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 15 and 16.
دین کی دو قسمیں ہیں۔ ایک ملاوٹی دین، دوسرا بے آمیز دین۔ ملاوٹی دین دراصل دنیا کے اوپر دین کا لیبل لگانے کا دوسرا نام ہے۔ وہ دنیا اور دین کے درمیان مصالحت کرنے سے وجود میں آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر زمانہ میں ایسا ہوتاہے کہ ملاوٹی دین کی بنیاد پر بڑے بڑے ادارے قائم ہوتے ہیں۔ مفاد پرست لوگ اس کے ذریعے دین کے نام پر دنیا حاصل کرلیتے ہیں۔
بے آمیز دین کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ بے آمیز دین کی دعوت جب کسی ماحول میں اٹھتی ہے تو وہ صرف ایک نظری سچائی ہوتی ہے۔ معاشی مفادات اور قیادتی مصالح اس کے ساتھ جمع نہیں ہوتے۔ ایسی حالت میں جو لوگ ملاوٹی دین کے نام پر عزت اور مقام حاصل كيے ہوئے ہوں ان کے سامنے جب بے آمیز دین کی دعوت آتی ہے تو وہ سخت متوحش ہوتے ہیں۔ کیونکہ اس کو اختیار کرنے کی صورت میں انھیں نظر آتاہے کہ تمام دنیوی چیزیں ان سے چھن جائیں گی۔
اس اعتبار سے کسی ماحول میں بے آمیز دین کی دعوت کا اٹھنا وہاں ایک نازک امتحان کا برپا ہونا ہے۔ ایسے وقت میں جو لوگ دنیا کی عزت اور دنیا کے مفادات کو قابلِ ترجیح سمجھیں اور بے آمیز دین کا ساتھ نہ دیں ان کی ساری دوڑ دھوپ دنیا کے خانہ میں چلی جاتی ہے۔ کیوںکہ انھوں نے اس دین کا ساتھ دیا جس میں ان کے دنیوی مفادات محفوظ تھے۔ اور اس دین کا ساتھ نہ دیا جس میں انھیں اپنے دنیوی مفادات چھنتے ہوئے نظر آتے تھے۔وہ بظاہر خواہ دینی سرگرمیوں میں مشغول ہوں، اصل مقصود کے اعتبار سے وہ دنیا کے حصول میں مشغول ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ایسی کوششوں کا آخرت میں کوئی نتیجہ ملنا ممکن نہیں۔
انھوںنے اگرچہ اپنی سرگرمیوں کو دین کے نام سے موسوم کررکھا تھا وہ اپنے قومی میلوں کے اوپر جشن دینی کا بورڈ لگاتے تھے۔وہ اپنی قومی لڑائیوں کو مقدس جنگ کا نام دیتے تھے۔ وہ اپنی قیادتی نمائش کو دینی کانفرنس کہتے تھے، وہ اپنے سیاسی ہنگاموں کو مذہب کی اصطلاحات میں بیان کرتے تھے، وہ اپنے دنیوی جذبات کے تحت دھوم مچاتے تھے اور اس کو خدا اور رسول کے ساتھ جوڑتے تھے۔ مگر یہ ساری تعمیرات دنیاکی زمین میں تھیں، وہ آخرت کی زمین میں نہ تھیں، اس لیے قیامت کا زلزلہ انھیں بالکل برباد کردے گا۔ اگلی دنیا میں ان کا کوئی انجام ان کے حصہ میں نہ آئے گا۔