Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 11:121 Prev 11:119


Arabic

وَكُلّٗا نَّقُصُّ عَلَيۡكَ مِنۡ أَنۢبَآءِ ٱلرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهِۦ فُؤَادَكَۚ وَجَآءَكَ فِي هَٰذِهِ ٱلۡحَقُّ وَمَوۡعِظَةٞ وَذِكۡرَىٰ لِلۡمُؤۡمِنِينَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

اور اے محمدؐ، یہ پیغمبروں کے قصے جو ہم تمہیں سناتے ہیں، وہ چیزیں ہیں جن کے ذریعے سے ہم تمہارے دل کو مضبوط کرتے ہیں ان کے اندر تم کو حقیقت کا علم ملا اور ایمان لانے والوں کو نصیحت اور بیداری نصیب ہوئی


English (Sahih International)

And each [story] We relate to you from the news of the messengers is that by which We make firm your heart. And there has come to you, in this, the truth and an instruction and a reminder for the believers


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 120 وَکُلاًّ نَّقُصُّ عَلَیْکَ مِنْ اَنْبَآء الرُّسُلِ یہ ”انباء الرسل“ کی وہی اصطلاح ہے جس کا ذکر قبل ازیں بار بار ہوا ہے۔ حضرت نوح حضرت ہود حضرت صالح حضرت لوط حضرت شعیب اور حضرت موسیٰ کے حالات ہم آپ کو بار بار اس لیے سنا رہے ہیں :مَا نُثَبِّتُ بِہٖ فُؤَادَکَ تا کہ ان واقعات کو سن کر آپ اور آپ کے ساتھیوں کے دلوں میں اطمینان بڑھے اور استقامت میں اضافہ ہو۔ ان واقعات کے ذریعے سے ہم یہ بات واضح کرنا چاہتے ہیں کہ مکہ میں آپ پر اور آپ کے ساتھیوں پر مصائب کے جو پہاڑ ٹوٹ رہے ہیں یہ کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ جب بھی کوئی رسول کسی قوم کی طرف مبعوث ہوا اور اسے دعوت حق پیش کی تو اس کی مخالفت اسی شد ومد سے ہوئی۔ انبیاء ورسل اور ان کے ساتھیوں کو ہمیشہ ایسے ہی حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ مگر جس طرح ہم نے ہر بار اہل حق کی مدد کی اور بالآخر کامیاب وہی ہوئے ‘ اسی طرح اب بھی حق و باطل کی اس جاں گسل کشمکش میں بول بالا حق ہی کا ہوگا اور آخر کار فتح آپ کی اور آپ کے ساتھیوں ہی کی ہوگی۔وَجَآءَ کَ فِیْ ہٰذِہِ الْحَقُّ وَمَوْعِظَۃٌ وَّذِکْرٰی لِلْمُؤْمِنِیْنَ یعنی اس قرآن میں یا اس سورت میں یا ان واقعات میں حق اور باطل کو بالکل واضح کردیا گیا ہے اور مؤمنین کے لیے نصیحت اور یاد دہانی کا سامان بھی فراہم کردیا گیا ہے۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 120 to 123.

قرآن میں رسولوں کے احوال اس لیے سنائے گئے ہیں کہ بعد کے داعیوں کو اس سے سبق حاصل ہو۔ رسولوں کے احوال میں داعی دیکھتاہے کہ ان کی مخاطب قوموںنے ان سے جھگڑے كيے۔ سیدھی بات کو غلط رخ دے کر انھیں مطعون کیا۔ ان کو طرح طرح کی تکلیفیں پہنچائیں۔ ان کو اس طرح رد کردیا جیسے ان کی کوئی قیمت ہی نہیں۔

مگر بالآخر اللہ نے ان کی مدد کی۔ ان کی بات سب سے برتر ثابت ہوئی۔ مخالفین کی تمام کارروائیاں ناکام ہوکر رہ گئیں۔ دونوں گروہوں کا یہ مختلف انجام اپنی ابتدائی صورت میں موجودہ دنیا ہی میں پیش آیا اور آخرت میں وہ اپنی کامل ترین صورت میں پیش آئے گا۔

ان مثالوں سے داعی کو یہ تاریخی اعتماد حاصل ہوتا ہے کہ اس کو دعوتِ حق کی راہ میں جو مشکلیں پیش آرہی ہیں ان میں اس کے لیے نہ مایوسی کا سوال ہے اور نہ گھبراہٹ کا۔ دعوت حق کی راہ میں یہ چیزیں ہمیشہ پیش آتی ہیں۔ اور اس کو بھی بالآخر اس طرح کامیابی حاصل ہوگی جس طرح اس سے پہلے خداکے سچے داعیوں کو حاصل ہوئی۔


Connections

Tafsir Notes