Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 11:2


Arabic

بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

الٓرۚ كِتَٰبٌ أُحۡكِمَتۡ ءَايَٰتُهُۥ ثُمَّ فُصِّلَتۡ مِن لَّدُنۡ حَكِيمٍ خَبِيرٍ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

ا ل ر فرمان ہے، جس کی آیتیں پختہ اور مفصل ارشاد ہوئی ہیں، ایک دانا اور باخبر ہستی کی طرف سے


English (Sahih International)

Alif, Lam, Ra. [This is] a Book whose verses are perfected and then presented in detail from [one who is] Wise and Acquainted


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 1 الۗرٰ ۣ كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰيٰتُهٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَكِيْمٍ خَبِيْرٍ اس کا ایک مفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے کہ قرآن مجید میں شروع شروع میں جو سورتیں نازل ہوئی ہیں وہ حجم کے اعتبار سے تو چھوٹی ‘ لیکن بہت جامع اور گہرے مفہوم کی حامل ہیں ‘ جیسے کو زے میں سمندر کو بند کردیا گیا ہو۔ مثلاً سورة العصر ‘ جس کے بارے میں امام شافعی فرماتے ہیں : لَوْلَمْ یُنَزَّلْ مِنَ الْقُرْآنِ سِوَاھَا لَکَفَتِ النَّاس یعنی ”اگر اس سورت کے علاوہ قرآن میں کچھ بھی نازل نہ ہوتا تو بھی یہ سورت لوگوں کی ہدایت کے لیے کافی تھی“۔ امام شافعی سورة العصر کے بارے میں مزید فرماتے ہیں : لَوْ تَدَبَّرَ النَّاسُ ھٰذِہِ السُّوْرَۃَ لَوَسِعَتْھُمْ ”اگر لوگ اس سورت پر ہی تدبر کریں تو یہ ان کی ہدایت کے لیے کافی ہوجائے گی“۔ چناچہ قرآن مجید کی ابتدائی سورتیں اور آیات بہت محکم اور جامع ہیں اور بعد میں انہی کی تفصیل بیان ہوئی ہے۔ اور اس کتاب کا بنیادی پیغام یہ ہے :


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 1 to 4.

قرآن کی دعوت یہ ہے کہ آدمی ایک اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرے۔ وہ ایک خداکو اپنا سب کچھ بنائے۔ وہ اسی سے ڈرے اور اسی سے امید رکھے۔ اس کے ذہن ودماغ پر اسی کا غلبہ ہو۔ اپنی زندگی کے معاملات میں وہ سب سے زیادہ اس کی مرضی کا لحاظ کرے۔ وہ اپنے آپ کو عابد کے مقام پر رکھ کر خدا کو معبود کا مقام دینے پر راضی ہوجائے۔

پیغمبرانہ دعوت دراصل اسی چیز سے انسان کو باخبر کرنے کی دعوت ہے۔ قرآن میںاس کو انتہائی محکم زبان اور واضح اسلوب میں بیان کردیا گیا ہے۔ اب انسان سے جو چیز مطلوب ہے وہ یہ کہ وہ اس کے مقابلہ میں صحیح ردعمل پیش کرے۔ حسد، گھمنڈ، مصلحت بینی اور گروہ پرستی جیسی چیزوں کے زیر اثر آکر وہ اس کو نظر انداز نہ کردے۔ بلکہ سیدھی طرح اس کو مان کر خدا کی طرف پلٹ آئے۔ وہ اپنی ماضی کی غلطیوں کے لیے خدا سے معافی مانگے اور مستقبل کے لیے خدا سے مدد کی درخواست کرے۔

آدمی کے سامنے کھانا پیش کیا جائے اور وہ کھانے کو قبول کرلے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے اپنی جسمانی پرورش کا انتظام کیا۔ اس کے برعکس، اگر وہ کھانا قبول نہ کرے تو گویا اس نے اپنے آپ کو جسمانی پرورش سے محروم رکھا۔ ایسا ہی معاملہ دعوت حق کا ہے۔ جب آدمی حق کو قبول کرتاہے تو درحقیقت وہ اس رزق ربانی کو قبول کرتاہے جو اس کے اندر داخل ہو کر اس کی روح اور اس کے جسم کی صالح پرورش کا سبب بنے اور بالآخر اس کو روحانی ترقی کی اس منزل کی طرف لے جائے جو اس کو جنت کے باغوں کا مستحق بناتی ہے۔

جو شخص دعوت حق کو قبول نہ کرے اس نے گویا اپنی روح کو ربانی پرورش کے مواقع سے محروم کردیا۔ حق کو ماننے والا اگر تواضع میں جی رہا تھا تو یہ دوسرا شخص گھمنڈ کی نفسیات میں جئے گا۔ حق کو ماننے والے کے لمحات اگر خدا کی یاد میں بسر ہورہے تھے تو اس کے لمحات غیر خدا کی یاد میں بسر ہو ں گے۔ حق کو ماننے والا اگر مواقع حیات میں اطاعت خداوندی کا رویہ اختیا ركيے ہوئے تھا تو یہ اس کی جگہ سرکشی کا رویہ اختیار کرے گا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ پہلا شخص اس دنیا سے اس حال میں جائے گا کہ اس کی روح صحت مند اور ترقی یافتہ روح ہوگی اور جنت کی فضاؤں میں بسائے جانے کی مستحق ٹھہرے گی۔ اور وسرے شخص کی روح بیمار اور پچھڑی ہوئی روح ہوگی اور صرف اس قابل ہوگی کہ اس کو جہنم کے کوڑا خانہ میں پھینک دیا جائے۔


Connections

  • Previous: (Start of Surah)
  • Next: 11_2
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes