Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 109:2


Arabic

بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

قُلۡ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلۡكَٰفِرُونَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

کہہ دو کہ اے کافرو


English (Sahih International)

Say, “O disbelievers


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

This commentary covers ayaat 1 and 2.

آیت 1{ قُلْ یٰٓــاَیُّہَا الْکٰفِرُوْنَ۔ } ”اے نبی ﷺ آپ کہہ دیجیے کہ اے کافرو !“ نوٹ کیجیے ! یہ داعیانہ طرز تخاطب نہیں ہے ‘ بلکہ لاتعلق اور علیحدہ ہونے کا انداز ہے۔ ظاہر ہے ایک داعی تو اپنے مخاطبین کو یٰٓــاَیُّہَا النَّاسُکہہ کر پکارتا ہے ‘ کہ اے اللہ کے بندو ! میری بات سنو ! گویا کلمہ تخاطب میں ہی مفہوم واضح کردیا گیا کہ اگر میری تمامتر ناصحانہ کوششوں کے باوجود بھی تم لوگوں نے کفر و انکار پر ڈٹے رہنے کا فیصلہ کرلیا ہے تو تمہارا یہ فیصلہ اور طرزعمل تمہیں مبارک ہو۔ لیکن تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اس کے بعد اب میری اور تمہاری راہیں جدا ہوچکی ہیں۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 1 to 6.

یہ سورۃ مکہ کے آخری زمانہ میں اتری۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابتداء ً ایک عرصہ تک ’’اے میری قوم‘‘ کے لفظ سے لوگوں کو پکارتے رہے۔ مگر جب اتمام حجت کے باوجود انہوں نے نہ مانا تو آپ نے ایہا الکافرون (اے انکار کرنے والو) کے لفظ سے خطاب فرمایا۔ اس مرحلہ میں یہ فقرہ در اصل کلمہ براءت ہے، نہ کہ کلمہ دعوت۔

میرے لیے میرا دین، تمہارے لیے تمہارا دین— یہ دوسروں کے دین کی تصدیق نہیں۔ یہ ایک طرف اپنے حق پر جمے رہنے کا آخری اظہار ہے۔ اور دوسری طرف وہ مخاطب کی اس حالت کا اعلان ہے کہ تم اب ضد کی اس آخری حد پر آگئے ہو جہاں سے کوئی شخص کبھی نہیں پلٹتا۔


Connections

  • Previous: (Start of Surah)
  • Next: 109_2
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes