Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
إِنَّآ أَعۡطَيۡنَٰكَ ٱلۡكَوۡثَرَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
(اے نبیؐ) ہم نے تمہیں کوثر عطا کر دیا
English (Sahih International)
Indeed, We have granted you, [O Muhammad], al-Kawthar
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 1 { اِنَّآاَعْطَیْنٰکَ الْکَوْثَرَ۔ } ”اے نبی ﷺ ! ہم نے آپ کو خیر کثیر عطا کیا۔“ الکوثر : کثرت سے ماخوذ ہے ‘ اس کا وزن فَوْعَلْ ہے جو مبالغہ کا صیغہ ہے۔ اس کا معنی ہے کسی چیز کا اتنا کثیر ہونا کہ اس کا اندازہ نہ لگایا جاسکے۔ چناچہ اس کا ترجمہ ”خیر کثیر“ کیا گیا ہے۔ ”الکوثر“ کے بارے میں ایک رائے یہ بھی ہے کہ اس سے حوض کوثر مراد ہے ‘ جو میدانِ حشر میں ہوگا اور اس سے حضور ﷺ اپنی امت کے پیاسوں کو سیراب فرمائیں گے۔ لیکن درحقیقت وہ بھی ”خیر کثیر“ ہی میں شامل ہے۔ ”خیر کثیر“ کی وضاحت سے متعلق بھی تفاسیر میں لگ بھگ پچیس تیس اقوال ملتے ہیں۔ حضور ﷺ کو عطا ہونے والے خیرکثیر کی سب سے بڑی مثال خود قرآن مجید ہے۔ اسی طرح اس کی ایک مثال حکمت بھی ہے۔ ظاہر ہے آپ ﷺ کو اعلیٰ ترین درجے میں حکمت بھی عطا ہوئی تھی ‘ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { یُّؤْتِی الْحِکْمَۃَ مَنْ یَّشَآئُج وَمَنْ یُّؤْتَ الْحِکْمَۃَ فَقَدْ اُوْتِیَ خَیْرًا کَثِیْرًاط } البقرۃ : 269 ”وہ جس کو چاہتا ہے حکمت عطا کرتا ہے ‘ اور جسے حکمت دے دی گئی اسے تو خیر ِکثیر عطا ہوگیا“۔ مزید برآں جنت کی نہر کوثر ‘ نبوت کے فیوض و برکات ‘ دین اسلام ‘ صحابہ کرام کی کثرت ‘ رفع ذکر اور مقام محمود کو ”کوثر“ کا مصداق سمجھا دیا گیا ہے۔ چناچہ اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اے نبی ﷺ ہم نے آپ کو وہ سب کچھ عطا کردیا اور کثرت کے ساتھ عطا کردیا جس کی انسانیت کو ضرورت ہے اور جو نوع انسانی کے لیے ُ طرئہ امتیاز بن سکتا ہے۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 1 to 3.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بے آمیز حق کی دعوت لے کر اٹھے تھے۔ اس قسم کا کام موجودہ دنیا کا سب سے زیادہ مشکل کام ہے۔ چنانچہ آپ کو اس دعوت کی راہ میں اپنی ہر چیز کھو دینی پڑی۔ آپ اپنی قوم سے کٹ گئے۔ آپ کی معاشی زندگی برباد ہوگئی۔ آپ کی اولاد کا مستقبل تاریک ہوگیا۔ تھوڑے لوگوں کے سوا کسی نے آپ کا ساتھ نہیں دیا۔ مگر انہیں حوصلہ شکن حالات میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ خبر اتری کہ تم کو ہم نے کوثر (خیر کثیر) دے دیا۔ یعنی ہر قسم کی اعلی ترین کامیابی۔ قرآن کی یہ پیشین گوئی بعد کے سالوں میں کامل طور پر پوری ہوئی۔
یہی وعدہ درجہ بدرجہ پیغمبر اسلام کے امتیوں سے بھی ہے۔ ان کے لیے بھی ’’خیر کثیر‘‘ ہے بشرطیکہ وہ اس خالص دین کو لے کر اٹھیں جس کو پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب لے کر اٹھے تھے۔ اس خیر کثیر کا تعلق دنیا سے لے کر آخرت تک ہے، وہ کبھی ختم ہونے والا نہیں۔
Connections
- Previous: (Start of Surah)
- Next: 108_2
- Thematic: (add links here)