Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 106:2


Arabic

بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

لِإِيلَٰفِ قُرَيۡشٍ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

چونکہ قریش مانوس ہوئے


English (Sahih International)

For the accustomed security of the Quraysh


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

Bayan ul Quran has no separate commentary on this ayah.


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 1 to 4.

قریش ایک تجارتی قوم تھے۔ گرمی کے زمانہ میں ان کے تجارتی قافلے شام اور فلسطین کی طرف جاتے تھے، اور سردیوں کے زمانہ میں وہ یمن کی طرف تجارتی سفر کرتے تھے۔ انہیں تجارتوں پر ان کی معاشیات کا انحصار تھا۔ قدیم زمانہ میں جب کہ تاجروں کو لوٹنا عام تھا، قریش کے قافلے راستے میں لوٹے نہیں جاتے تھے۔ اس کی وجہ کعبہ سے ان کا تعلق تھا۔ قریش کعبہ کے خادم اور متولی تھے اور لوگوں کے ذہنوں پر چوں کہ کعبہ کا بہت زیادہ احترام تھا۔ وہ کعبہ کے خادموں اور متولیوں کا بھی احترام کرتے تھے اور اس بنا پر وہ ان کو نہیں لوٹتے تھے۔

یہاں حکمتِ دعوت کے تحت قریش کو یہ واقعہ یاد دلاتے ہوئے انہیں اسلام کی طرف بلایا گیا ہے۔ اور کہا گیا ہے کہ یہ بڑی ناشکری کی بات ہوگی کہ تم بیت اللہ کے دنیوی فائدے تو حاصل کرو، اور اس سے وابستہ ہونے کی جو ذمہ داریاں ہیں ان کو پورا نہ کرو۔ جو خدا انسان کو مادی فائدے پہنچاتا ہے اسی خدا کی اس کو عبادت بھی کرني چاہيے۔


Connections

  • Previous: (Start of Surah)
  • Next: 106_2
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes