Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 105:5 Prev 105:3


Arabic

تَرۡمِيهِم بِحِجَارَةٖ مِّن سِجِّيلٖ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

جو اُن پر پکی ہوئی مٹی کے پتھر پھینک رہے تھے


English (Sahih International)

Striking them with stones of hard clay


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 4{ تَرْمِیْہِمْ بِحِجَارَۃٍ مِّنْ سِجِّیْلٍ۔ } ”جو ان پر مارتے تھے کنکر کی پتھریاں۔“ رَمٰی یَرْمِی رَمْیًاکا معنی ہے پھینکنا ‘ مارنا۔ حج کے دوران شیطان کو کنکریاں مارنے کے عمل کو بھی ”رمی جمرات“ کہا جاتا ہے۔ لفظ سِجِّیْلدراصل فارسی ترکیب ”سنگ ِگل“ سے معرب ہے فارسی کی ”گ“ عربی میں آکر ”ج“ سے بدل گئی ہے۔ فارسی میں سنگ بمعنی پتھر اور گل بمعنی مٹی استعمال ہوتا ہے۔ چناچہ سنگ ِگل کے لغوی معنی ہیں مٹی کا پتھر۔ اس سے مراد وہ کنکریاں ہیں جو ریتلی زمین پر ہلکی بارش برسنے اور بعد میں مسلسل تیز دھوپ چمکنے کی وجہ سے وجود میں آتی ہیں۔ یعنی بارش کے ایک ایک قطرے کے ساتھ جو ریت ملی مٹی گیلی ہوجاتی ہے وہ بعد میں مسلسل تیز دھوپ کی حرارت سے پک کر سخت کنکری بن جاتی ہے۔ ابرہہ کے لشکرجرار کو تباہ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کو کسی غیر معمولی طاقت کے استعمال کی ضرورت نہ پڑی ‘ بلکہ اس نے چھوٹے چھوٹے پرندوں کے ُ جھنڈ بھیج دیے جو ساحل سمندر کی طرف سے امڈ پڑے اور چند لمحوں کی سنگ باری سے اس لشکر کا بھرکس نکال دیا۔ ان میں سے ہر پرندہ تین چھوٹی چھوٹی کنکریاں اٹھائے ہوئے تھا ‘ ایک اپنی چونچ میں اور دو اپنے پنجوں میں۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

The commentary on this ayah is given with ayah 105:1.


Connections

  • Previous: 105_3
  • Next: 105_5
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes