Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 104:2


Arabic

بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

وَيۡلٞ لِّكُلِّ هُمَزَةٖ لُّمَزَةٍ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

تباہی ہے ہر اُس شخص کے لیے جو (منہ در منہ) لوگوں پر طعن اور (پیٹھ پیچھے) برائیاں کرنے کا خوگر ہے


English (Sahih International)

Woe to every scorner and mocker


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

آیت 1{ وَیْلٌ لِّکُلِّ ہُمَزَۃٍ لُّمَزَۃِ۔ } ”بڑی خرابی ہے ہر اس شخص کے لیے جو لوگوں کے عیب ُ چنتا رہتا ہے اور طعنے دیتا رہتا ہے۔“ ہُمَزَۃ اور لُمَزَۃ دونوں الفاظ معنی کے اعتبار سے باہم بہت قریب ہیں۔ بعض اہل لغت کے نزدیک روبرو طعنہ زنی کرنے والے کو ہُمَزَۃ اور پس پشت عیب جوئی کرنے والے کو لُمَزَۃ کہتے ہیں ‘ جبکہ بعض اہل لغت نے ان کا معنی برعکس بیان کیا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس - کا قول ہے کہ ہر چغلی کھانے والے ‘ دوستوں میں جدائی اور تفرقہ ڈالنے والے ‘ بےقصور اور بےعیب انسانوں میں نقص نکالنے والے کو ہُمَزَۃ اور لُمَزَۃ کہتے ہیں۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 1 to 9.

کسی سے اختلاف ہو تو آدمی اس کو دلیل سے رد کرسکتا ہے۔ مگر یہ درست نہیں کہ آدمی اس پر عیب لگائے، اس کو بدنام کرے، اس کو الزام تراشی کا نشانہ بنائے۔ پہلی بات جائز ہے مگر دوسری بات سراسر ناجائز۔

جو لوگ ایسا کرتے ہیں وہ اس لیے ایسا کرتے ہیں کہ وہ دیکھتے ہیں کہ ان کی دنیوی حیثیت محفوظ و مستحکم ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ دوسرے شخص پر بے بنیاد الزام لگانے سے ان کا اپنا کچھ بگڑنے والا نہیں۔ مگر یہ صرف نادانی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسا کرنا آگ کے گڑھے میں چھلانگ لگانا ہے۔ ایسا آگ کا گڑھا جس سے نکلنے کی کوئی سبیل ان کے لیے نہ ہوگی۔


Connections

  • Previous: (Start of Surah)
  • Next: 104_2
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes