Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 10:95 Prev 10:93


Arabic

فَإِن كُنتَ فِي شَكّٖ مِّمَّآ أَنزَلۡنَآ إِلَيۡكَ فَسۡـَٔلِ ٱلَّذِينَ يَقۡرَءُونَ ٱلۡكِتَٰبَ مِن قَبۡلِكَۚ لَقَدۡ جَآءَكَ ٱلۡحَقُّ مِن رَّبِّكَ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ ٱلۡمُمۡتَرِينَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

اب اگر تجھے اُس ہدایت کی طرف سے کچھ بھی شک ہو جو ہم نے تجھ پر نازل کی ہے تو اُن لوگوں سے پوچھ لے جو پہلے سے کتاب پڑھ رہے ہیں فی الواقع یہ تیرے پاس حق ہی آیا ہے تیرے رب کی طرف سے، لہٰذا تو شک کرنے والوں میں سے نہ ہو


English (Sahih International)

So if you are in doubt, [O Muhammad], about that which We have revealed to you, then ask those who have been reading the Scripture before you. The truth has certainly come to you from your Lord, so never be among the doubters


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

This commentary covers ayaat 94 and 95.

آیت 94 فَاِنْ کُنْتَ فِیْ شَکٍّ مِّمَّآ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ یہاں خطاب بظاہر محمد رسول اللہ سے ہے ‘ لیکن اس بات کا تو قطعاً کوئی امکان نہیں کہ آپ کو اس میں کوئی شک ہوتا لہٰذا اصل میں روئے سخن اہل مکہ کی طرف ہے۔ بعض اوقات جس سے بات کرنا مقصود ہوتا ہے اس کے رویے کی وجہ سے اس سے اس قدر نفرت ہوجاتی ہے کہ اسے براہ راست مخاطب کرنا مناسب نہیں سمجھا جاتا۔ ایسی صورت میں کسی دوسرے شخص سے بات کی جاتی ہے تاکہ اصل مخاطب بالواسطہ طور پر اسے سن لے۔ چناچہ اس کا مطلب یہی ہے کہ اے مشرکین مکہ ! اگر تم لوگوں کو اس کتاب کے بارے میں کوئی شک ہے جو ہم نے اپنے رسول پر نازل کی ہے :لَقَدْ جَآءَ کَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّکَ فَلاَ تَکُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ یہ اسی انداز تخاطب کا تسلسل ہے کہ حضور کو مخاطب کر کے مشرکین مکہ کو سنایا جا رہا ہے۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 94 and 95.

پیغمبر بے آمیز حق کو لے کر اٹھتا ہے، اور بے آمیز حق کی دعوت کو قبول کرنا انسان کے لیے ہمیشہ سخت دشوار کام رہاہے۔ لوگ عام طورپر ملاوٹی حق کی بنیاد پر کھڑے ہوتے ہیں۔ وہ اپنی دنیا پرستانہ زندگی پر حق کا لیبل لگا لیتے ہیں۔ ایسی حالت میں بے آمیز حق کی دعوت کو ماننا اپنی ذات کی نفی کی قیمت پر ہوتاہے۔ داعیٔ حق کو ماننے کے لیے اس کے مقابلہ میں اپنے آپ کو چھوٹا کرنا پڑتاہے۔ اور اپنے آپ کو چھوٹا کرنا بلا شبہ انسان کے لیے مشکل ترین کام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ حق کی دعوت اٹھے اور لوگ جوق درجوق اس کی طرف دوڑنا شروع کردیں۔ حق کا استقبال اس دنیا میں ہمیشہ اعراض اور مخالفت کی صورت میں کیا گیا ہے۔

داعی جب اپنے ماحول میں حق کی یہ بے وقعتی دیکھتا ہے تو کبھی کبھی اس پر یہ شبہ گزرتا ہے کہ میں غلطی پر تو نہیں ہوں۔ اس آیت میں داعی کو اسی نفسیات سے بچنے کی تاکید کی گئی ہے۔

اس شبہ کے غلط ہونے کا ایک نہایت واضح ثبوت یہ ہے کہ پچھلے پیغمبروں اور داعیوں کو بھی ہمیشہ اسی طرح کی صورت حال سے سابقہ پیش آیا۔ جو لوگ سابق انبیاء کی تاریخ سے واقف ہیں ان کو بخوبی معلوم ہے کہ اس دنیا میں کبھی ایسا نہیںہوا کہ ایک پیغمبر اٹھے اور فوراً اس کو عوامی مقبولیت حاصل ہوجائے۔ پھر یہی بات اگر بعد کے زمانہ کے داعیوں کے ساتھ پیش آئے تو اس پر حیران وپریشان ہونے کی کیا ضرورت۔

آدمی کی عقل اگر کسی چیز کی سچائی پر گواہی دے اور وہ صرف لوگوں کی بے توجہی یا مخالفت کی وجہ سے اس چیز کو چھوڑ دے تو یہ گویا اللہ کی نشانیوں کو جھٹلانا ہے۔ اللہ نشانیوں (دلائل) کے روپ میں انسان کے سامنے ظاہر ہوتاہے۔ اس لیے جس چیز کی صداقت پر دلیل قائم ہوجائے اس کو ماننا آدمی کے اوپر خدا کا حق ہوجاتا ہے۔ پھر جو شخص خدا کا حق ادا نہ کرے اس کے حصہ میں نقصان اور ہلاکت کے سوا کیا آئے گا۔


Connections

  • Previous: 10_93
  • Next: 10_95
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes