Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 10:89 Prev 10:87


Arabic

وَقَالَ مُوسَىٰ رَبَّنَآ إِنَّكَ ءَاتَيۡتَ فِرۡعَوۡنَ وَمَلَأَهُۥ زِينَةٗ وَأَمۡوَٰلٗا فِي ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا رَبَّنَا لِيُضِلُّواْ عَن سَبِيلِكَۖ رَبَّنَا ٱطۡمِسۡ عَلَىٰٓ أَمۡوَٰلِهِمۡ وَٱشۡدُدۡ عَلَىٰ قُلُوبِهِمۡ فَلَا يُؤۡمِنُواْ حَتَّىٰ يَرَوُاْ ٱلۡعَذَابَ ٱلۡأَلِيمَ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

موسیٰؑ نے دعا کی “اے ہمارے رب، تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو دنیا کی زندگی میں زینت اور اموال سے نواز رکھا ہے اے رب، کیا یہ اس لیے ہے کہ وہ لوگوں کو تیری راہ سے بھٹکائیں؟ اے رب، ان کے مال غارت کر دے اور ان کے دلوں پر ایسی مہر کر دے کہ ایمان نہ لائیں جب تک دردناک عذاب نہ دیکھ لیں


English (Sahih International)

And Moses said, “Our Lord, indeed You have given Pharaoh and his establishment splendor and wealth in the worldly life, our Lord, that they may lead [men] astray from Your way. Our Lord, obliterate their wealth and harden their hearts so that they will not believe until they see the painful punishment


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

رَبَّنَا لِیُضِلُّوْا عَنْ سَبِیْلِکَ ان کے پاس طاقت ہے اقتدار ہے اختیار ہے دولت ہے جاہ وحشم ہے۔ لوگ ان کے رعب و دبدبے کے خوف اور مال و دولت کے لالچ سے گمراہ ہو رہے ہیں۔ پروردگار ! کیا تو نے انہیں یہ سب کچھ اس لیے دے رکھا ہے کہ وہ تیرے بندوں کو تیرے سیدھے راستے سے گمراہ کریں ؟ فَلاَ یُؤْمِنُوْا حَتّٰی یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ اور جب وہ عذاب کو دیکھ لیں گے تو پھر ان کا ایمان انہیں کچھ فائدہ نہیں دے گا کیونکہ اس وقت کا ایمان اللہ کے ہاں معتبر نہیں ہے۔ یہ حضرت موسیٰ کی آل فرعون سے بیزاری کی آخری حد ہے۔ اگرچہ نبی ایک ایک فرد کے لیے ایمان کا خواہش مند ہوتا ہے ‘ مگر فرعون اور اس کے سردار اہل ایمان کو ستانے اور اذیتیں دینے میں اس حد تک آگے جا چکے تھے کہ حضرت موسیٰ خود اللہ تعالیٰ سے دعا مانگ رہے ہیں کہ اے اللہ ! اب ان لوگوں کے دلوں کو سخت کر دے ‘ ان کے دلوں پر مہریں لگا دے ‘ تاکہ تیرا عذاب آنے تک انہیں ایمان نصیب ہی نہ ہو۔ اس لیے کہ جو کچھ انہوں نے اللہ اور اہل ایمان کی دشمنی میں کیا ہے اس کی سزا انہیں مل جائے۔


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 88 and 89.

جو لوگ آخرت کی فکر کرتے ہیں وہ عام طور پر دنیوی ساز وسامان جمع کرنے میں ان لوگوں سے پیچھے رہ جاتے ہیں جو آخرت سے بے فکر ہو کر دنیا حاصل کرنے میں لگے ہوئے ہوں۔دنیوی کمی آخرت کی طرف دھیان لگانے کی قیمت ہے، اور دنیوی زیادتی آخرت سے غافل ہونے کی قیمت۔

مزید یہ کہ جس کے پاس دنیا کی رونق اور سامان زیادہ جمع ہوجائیں وہ بڑائی کے احساس میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتاہے کہ ایسے لوگ اپنے اندر یہ صلاحیت کھودیتے ہیں کہ کسی دوسرے کی زبان سے جاری ہونے والے حق کو پہچانیں اور اس کے آگے جھک جائیں۔ اپنے وسائل کو اگر وہ خدا کا عطیہ سمجھتے تو اس کو حق کی تائید میں استعمال کرتے، مگر وہ اس کو اپنا ذاتی کمال سمجھتے ہیں اس ليے وہ اس کو صرف اس مقصد کے لیے استعمال کرتے ہیں کہ حق کو دبائیں اور اس طرح ماحول کے اندر اپنی برتری قائم رکھیں۔

’’تاکہ وہ تیری راہ سے بھٹکائیں‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ انھوں نے اللہ کے ديے ہوئے مال واسباب کو صرف اس لیے استعمال کیا کہ اس کے ذریعے سے خدا کے بندوں کو خدا سے دور کریں، انھوں نے اس کو حق کی خدمت میں لگانے کے بجائے باطل کی خدمت میں لگایا، یہاں شدت بیان کی خاطر کلام کا اسلوب بدل گیا ہے۔

حضرت موسیٰ نے فرعون اور اس کے ساتھیوں کے سامنے سچے دین کی دعوت پیش کی اور اپنی اعلیٰ صلاحیتوں اور خدا کی نصرتوں کے ذریعہ اس کو اتمام حجت کی حد تک واضح کردیا، اس کے باوجود فرعون اور اس کے ساتھیوں نے آنجناب کے پیغام کو نہیں مانا۔ اس وقت حضرت موسیٰ نے دعا کی کہ خدایا ان کے اوپر وہ سزا نازل فرما جو تیرے قانون کے تحت ایسے سرکشوں کے لیے مقدر ہے۔ ایسے موقع پر پیغمبر کی بد دعا خود خدا کے فیصلہ کا اعلان ہوتاہے جو نمائندہ خدا کی زبان سے جاری کیا جاتاہے۔

حضرت موسیٰ کی دعا قبول ہوگئی۔ تاہم جیسا کہ بعض روایات میں آتاہے، حضرت موسیٰ کی دعا اور فرعون کی تباہی کے درمیان 40 سال کا فاصلہ ہے(تفسير النسفی، جلد2، صفحہ

38

) ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے بعد بھی لمبی مدت تک یہ صورت حال باقی رہی کہ حضرت موسیٰ اور آپ کے ساتھی اپنے آپ کو بے بس پاتے تھے۔ اور دوسری طرف فرعون اور اس کے ساتھیوں کی شان وشوکت بدستور ملک میں قائم تھی۔ ایسی حالت میں آدمی اگر خدا کی اس سنت سے بے خبر ہو کہ وہ سرکشوں کو مہلت دیتاہے تو وہ جلد بازی میں اصل کام چھوڑ دے گااور مایوسی اور بددلی کا شکار ہو کر رہ جائے گا۔


Connections

  • Previous: 10_87
  • Next: 10_89
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes