Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ قَدۡ جَآءَتۡكُم مَّوۡعِظَةٞ مِّن رَّبِّكُمۡ وَشِفَآءٞ لِّمَا فِي ٱلصُّدُورِ وَهُدٗى وَرَحۡمَةٞ لِّلۡمُؤۡمِنِينَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت آ گئی ہے یہ وہ چیز ہے جو دلوں کے امراض کی شفا ہے اور جو اسے قبول کر لیں ان کے لیے رہنمائی اور رحمت ہے
English (Sahih International)
O mankind, there has to come to you instruction from your Lord and healing for what is in the breasts and guidance and mercy for the believers
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
وَہُدًی وَّرَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ اس آیت کے الفاظ کی ترتیب موعظہ ‘ شفا ‘ ہدایت اور رحمت بہت پر حکمت ہے۔ سورة البقرۃ کی آیت 74 میں انسان کے دل کی سختی کا ذکر اس طرح کیا گیا ہے : ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُکُمْ ۔ دراصل دل کی سختی ہی وہ بنیادی مرض ہے جس کے باعث اعلیٰ سے اعلیٰ کلام بھی کسی انسان پر بےاثر ہو کر رہ جاتا ہے : ع ”مرد ناداں پر کلام نرم و نازک بےاثر“۔ چناچہ قبول ہدایت کے لیے سب سے پہلے دلوں کی سختی کو دور کرنا ضروری ہے۔ جیسے بارش سے فائدہ اٹھانے کے لیے زمین کو نرم کرنا پڑتا ہے ‘ سخت زمین بارش سے کچھ فائدہ نہیں اٹھا سکتی ‘ بارش کا پانی اوپر ہی اوپر سے بہہ جاتا ہے ‘ اس کے اندر جذب نہیں ہوتا۔ اسی طرح اگر انسان کا معدہ ہی خراب ہو تو کوئی دوسری دوائی اپنا اثر نہیں دکھاتی۔ لہٰذا انسان کی کسی بھی بیماری کے علاج کے لیے پہلے اس کے معدے کو درست کرنا ضروری ہے۔ دلوں کی سختی کو دور کرنے کے لیے مؤثر ترین نسخہ وعظ و نصیحت موعظہ ہے۔ جب وعظ اور نصیحت سے دلوں میں گداز پیدا ہوگا تو پھر قرآن ان پر دوائی کی مانند اثر کر کے تکبر ‘ حسد ‘ بغض ‘ حب دنیا وغیرہ تمام امراض کو دور کر دے گا۔ حبّ دنیا میں دولت ‘ اولاد ‘ بیوی ‘ شہرت وغیرہ کی تمام محبتیں شامل ہیں۔ ملاحظہ ہو سورة آل عمران کی آیت 14 : زُیِّنَ للنَّاسِ حُبُّ الشَّہَوٰتِ مِنَ النِّسَآءِ وَالْبَنِیْنَ وَالْقَنَاطِیْرِ الْمُقَنْطَرَۃِ مِنَ الذَّہَبِ وَالْفِضَّۃِ وَالْخَیْلِ الْمُسَوَّمَۃِ وَالْاَنْعَامِ وَالْحَرْثِ ط۔ آیت زیر مطالعہ میں الفاظ کی ترتیب پر غور کیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ایک انسان کے حق میں قرآن سب سے پہلے وعظ اور نصیحت ہے ‘ پھر تمام امراض قلب کے لیے شفا اور پھر ہدایت۔ کیونکہ جب دل سے بیماری نکل جائے گی ‘ دل شفایاب ہوگا تب ہی انسان قرآن کی ہدایت اور راہنمائی کو عملاً اختیار کرے گا ‘ اور جب انسان یہ سارے مراحل طے کر کے قرآن کی ہدایت کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھال لے گا تو پھر اس کو انعام خاص سے نوازا جائے گا اور وہ ہے اللہ کی خصوصی رحمت۔ کیونکہ یہ قرآن ربِّ رحمان کی رحمانیت کا مظہر اتم ہے : اَلرَّحْمٰنُ عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ ۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 57 to 60.
انسان ایک نفسیاتی مخلوق ہے۔ نفسیات کے بننے سے وہ بنتا ہے اور نفسیات کے بگڑنے سے وہ بگڑ جاتا ہے۔ خدا کی کتاب کی صورت میں جو ہدایت اتری ہے وہ انسان کے لیے سراسر رحمت ہے۔ اس میں انسان کے لیے بہترین نصیحت موجود ہے۔ مگر اس نصیحت کو پانے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی نے اپنی راست فکری نہ کھو ئی ہو۔ جو شخص اپنی راست فکری کی صلاحیت کو بگاڑ لے، اس کے لیے خدا کا نصیحت نامہ بے اثر رہے گا۔
موجودہ دنیا کی چیزیں اور اس کی رونقیں آدمی کے سامنے ’’نقد‘‘ ہوتی ہیں۔ آدمی ہر آن ان کی لذت اور خوبی کا تجربہ کرتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں آخرت کی نعمتیں صرف ’’وعدہ‘‘ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ آدمی صرف ان کے بارے میں سنتا ہے، وہ ان کا تجربہ نہیں کرتا۔ اس بنا پر اکثر لوگ دنیا کی نقد چیزوں پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ مگر جو شخص گہرائی کے ساتھ سوچے گا وہ اس بات پر خوش ہوگا کہ خدا نے اپنی ہدایت اتار کر ا س کے لیے ابدی نعمتوں کے حصول کا دروازہ کھول دیا ہے۔
اللہ نے جو کچھ انسان کو دیا ہے، خواہ وہ زرعی پیداوار کی صورت میں ہو یا دوسری صورت میں، سب کا سب رزق ہے۔ آدمی اگر ان چیزوں کو خدا کا دیا ہوا سمجھے اور خداکے بتائے ہوئے طریقہ کے مطابق ان میں تصرف کرے تو اس کے اندر خدا کے شکر کا جذبہ ابھرے گا۔ مگر شیطان ہمیشہ اس کوشش میں رہتاہے کہ وہ اس نسبت کو بدل دے، تاکہ اس ’’رزق‘‘ کے استعمال کے وقت آدمی کو خدائی یاد نہ آئے بلکہ دوسری چیزوں کی یاد آئے — قدیم زمانہ میں شیطان نے پیداوار میں مفروضہ دیوی دیوتاؤں کے مراسم مقرر كيے تاکہ آدمی ان کو لیتے ہوئے خدا کو یاد نہ کرے بلکہ دیوی دیوتاؤں کو یاد کرلے۔ موجودہ زمانہ میں یہی مقصد شیطان مادی توجیہات کے ذریعے حاصل کررہا ہے۔ وہ خدا کی طرف سے ملنے والی چیز کو مادی عوامل کے تحت ملنے والی چیز بنا کر لوگوں کو دکھا رہا ہے تا کہ لوگ جب ان نعمتوں کو پائیں تو وہ اس کو خدا کا رزق نہ سمجھیں بلکہ صرف مادہ کا کرشمہ سمجھیں۔