Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَيَوۡمَ نَحۡشُرُهُمۡ جَمِيعٗا ثُمَّ نَقُولُ لِلَّذِينَ أَشۡرَكُواْ مَكَانَكُمۡ أَنتُمۡ وَشُرَكَآؤُكُمۡۚ فَزَيَّلۡنَا بَيۡنَهُمۡۖ وَقَالَ شُرَكَآؤُهُم مَّا كُنتُمۡ إِيَّانَا تَعۡبُدُونَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
جس روز ہم ان سب کو ایک ساتھ (اپنی عدالت میں) اکٹھا کریں گے، پھر ان لوگوں سے جنہوں نے شرک کیا ہے کہیں گے کہ ٹھیر جاؤ تم بھی اور تمہارے بنائے ہوئے شریک بھی، پھر ہم ان کے درمیان سے اجنبیّت کا پردہ ہٹا دیں گے اور ان کے شریک کہیں گے کہ “تم ہماری عبادت تو نہیں کرتے تھے
English (Sahih International)
And [mention, O Muhammad], the Day We will gather them all together - then We will say to those who associated others with Allah, “[Remain in] your place, you and your ‘partners.’ ” Then We will separate them, and their “partners” will say, “You did not used to worship us
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 28 وَیَوْمَ نَحْشُرُہُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ اَشْرَکُوْا مَکَانَکُمْ اَنْتُمْ وَشُرَکَآؤُکُمْ یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ لات ‘ منات ‘ عزیٰ وغیرہ کی بات نہیں ہو رہی جن کے بارے میں کسی کو پتا نہیں کہ ان کی اصل کیا تھی ‘ بلکہ یہ اولیاء اللہ ‘ نیک اور برگزیدہ بندوں کی بات ہو رہی ہے جن کے ناموں پر مورتیاں اور بت بنا کر ان کی پوجا کی گئی ہوگی۔ جیسے قوم نوح علیہ السلام نے ودّ ‘ سواع اور یغوث وغیرہ اولیاء اللہ کی پوجا کے لیے ان کے بت بنا رکھے تھے اس بارے میں تفصیل سورة نوح میں آئے گی۔ ہمارے ہاں صرف یہ فرق ہے کہ بت نہیں بنائے جاتے ‘ قبریں پوجی جاتی ہیں۔ اس سلسلے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ کے خطاب کی ایک جھلک ہم سورة المائدۃ کے آخری رکوع میں دیکھ آئے ہیں۔ اس لیے یہاں یہ خیال نہیں آنا چاہیے کہ ایسے بلند مرتبہ لوگوں کو اس طرح کا حکم کیونکر دیا جائے گا کہ ٹھہرے رہو اپنی جگہ پر تم بھی اور تمہارے شریک بھی ! بہر حال اللہ تعالیٰ کی شان بہت بلند ہے ‘ جبکہ ایک بندہ تو بندہ ہی ہے ‘ چاہے جتنی بھی ترقی کرلے : اَلرَّبُّ رَبٌّ وَاِنْ تَنَزَّلَ۔ وَالْعَبْدُ عَبْدٌ وَاِنْ تَرَقّٰی !فَزَیَّلْنَا بَیْنَہُمْ وَقَالَ شُرَکَآؤُہُمْ مَّا کُنْتُمْ اِیَّانَا تَعْبُدُوْنَ وہ نیک لوگ جنہیں اللہ کا شریک بنایا گیا وہ اس شرک سے بری ہیں ‘ کیونکہ انہوں نے تو اپنی زندگیاں اللہ کی اطاعت میں گزاری تھیں۔ جیسے البقرۃ : 134 میں بہت واضح انداز میں فرمایا گیا ہے : تِلْکَ اُمَّۃٌ قَدْ خَلَتْج لَہَا مَا کَسَبَتْ وَلَکُمْ مَّا کَسَبْتُمْ ج ”وہ ایک جماعت تھی جو گزر گئی ‘ ان کے لیے ہے جو انہوں نے کمایا اور تمہارے لیے ہے جو تم نے کمایا“۔ اگر کوئی شیخ عبدالقادر جیلانی کو پکارتا ہے یا کسی مزار پر جا کر مشرکانہ حرکتیں کرتا ہے تو اس کا وبال صاحب مزار پر قطعاً نہیں ہوگا۔ ان پر تو الٹا ظلم ہو رہا ہے کہ انہیں اللہ کے ساتھ شرک میں ملوث کیا جا رہا ہے۔ چناچہ اللہ کے وہ نیک بندے اللہ کے ہاں ان شرک کرنے والوں کے خلاف استغاثہ کریں گے ‘ کہ وہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر انہیں پکارتے تھے اور ان کے ناموں کی دہائیاں دیتے تھے۔ وہ ان شرک کرنے والوں سے کہیں گے :
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
This commentary covers ayaat 28 to 30.
شرک کا پورا کاروبار جھوٹی امیدوں پر قائم ہوتاہے، وہ واقعات جو خداکے كيے سے ہورہے ہیں ان کو آدمی جھوٹے معبودوں کی طرف منسوب کردیتاہے اور اس طرح خود ساختہ تصور کے تحت ان کو اپنی عقیدت وپرستش کا مرکز بنا لیتاہے۔ اپنے ان معبودوں پر اس کا اعتماد اتنا بڑھتا ہے کہ وہ سمجھ لیتاہے کہ آخرت میں بھی وہ ضرور خدا کے مقابلہ میں اس کے مدد گار بن جائیں گے، اور اس کو خدا کی پکڑ سے بچالیں گے۔
یہ سراسر جھوٹی امیدیں ہیں۔ مگر دنیا کی زندگی میں ان کا جھوٹ ہونا ظاہر نہیں ہوتا کیوں کہ یہاں امتحان کی وجہ سے ہر چیز پر غیب کا پردہ پڑا ہواہے۔ یہاں آدمی کو موقع ہے کہ وہ واقعات کو اپنے فرضی معبودوں کی طرف منسوب کرے اور اس طرح ان کی معبودیت پر مطمئن ہوجائے۔ مگر آخرت میں ساری حقیقتیں کھل جائیں گی۔ وہاں معلوم ہوگا کہ اس کائنات میں ایک خدا کے سواکسی کو کوئی زور حاصل نہ تھا۔
موجودہ دنیا میں آدمی اس خوش فہمی میں جی رہا ہے کہ وہ اپنے بڑوں یا اپنے معبودوں کی مدد سے آخرت کے مرحلے میں کامیاب ہوجائے گا۔ مگر آخرت میں اچانک اس پر کھلے گا کہ اس کا اعتماد سراسر جھوٹا تھا۔ یہاں کسی کو صرف وہی ملے گا جو اس نے خود کیا تھا۔ فرضی سہارے وہاں اس طرح غائب ہوجائیں گے جیسے کہ ان کا کوئی وجود ہی نہ تھا۔