Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
وَإِذَآ أَذَقۡنَا ٱلنَّاسَ رَحۡمَةٗ مِّنۢ بَعۡدِ ضَرَّآءَ مَسَّتۡهُمۡ إِذَا لَهُم مَّكۡرٞ فِيٓ ءَايَاتِنَاۚ قُلِ ٱللَّهُ أَسۡرَعُ مَكۡرًاۚ إِنَّ رُسُلَنَا يَكۡتُبُونَ مَا تَمۡكُرُونَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
لوگوں کا حال یہ ہے کہ مصیبت کے بعد جب ہم ان کو رحمت کا مزا چکھاتے ہیں تو فوراً ہی وہ ہماری نشانیوں کے معاملہ میں چال بازیاں شروع کر دیتے ہیں ان سے کہو “اللہ اپنی چال میں تم سے زیادہ تیز ہے، اس کے فرشتے تمہاری سب مکّاریوں کو قلم بند کر رہے ہیں
English (Sahih International)
And when We give the people a taste of mercy after adversity has touched them, at once they conspire against Our verses. Say, “Allah is swifter in strategy.” Indeed, Our messengers record that which you conspire
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 21 وَاِذَآ اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَۃً مِّنْم بَعْدِ ضَرَّآءَ مَسَّتْہُمْ اِذَا لَہُمْ مَّکْرٌ فِیْٓ اٰیَاتِنَا ط ”اور جب ہم لوگوں کو رحمت کا مزا چکھاتے ہیں اس تکلیف کے بعد جو ان پر آگئی تھی تو فوراً ہی وہ ہماری آیات کے بارے میں سازشیں کرنے لگتے ہیں۔“پہلی امتوں میں بھی ایسا ہوتا رہا ہے اور حضور ﷺ کی بعثت کے بعد اہل مکہ پر بھی چھوٹی چھوٹی تکالیف آتی رہی ہیں جیسے روایات میں ہے کہ آپ ﷺ کی بعثت کے بعد مکہ میں شدید نوعیت کا قحط پڑگیا تھا۔ ایسے حالات میں مشرکین مکہ کچھ نرم پڑجاتے تھے۔ حضور ﷺ کے پاس آکر بیٹھتے بھی تھے اور آپ ﷺ کی باتیں بھی سنتے تھے۔ مگر جونہی تکلیف رفع ہوجاتی تو وہ پھر سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے خلاف سازشیں شروع کردیتے۔ قُلِ اللّٰہُ اَسْرَعُ مَکْرًاط اِنَّ رُسُلَنَا یَکْتُبُوْنَ مَا تَمْکُرُوْنَ ”آپ ﷺ کہیے کہ اللہ اپنی تدبیروں میں کہیں زیادہ تیز ہے۔ یقیناً ہمارے فرشتے لکھ رہے ہیں جو کچھ بھی سازشیں تم لوگ کر رہے ہو۔“
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
The commentary on this ayah is given with ayah 10:20.