Recitation (Mishary Rashid Alafasy)
Arabic
۞وَلَوۡ يُعَجِّلُ ٱللَّهُ لِلنَّاسِ ٱلشَّرَّ ٱسۡتِعۡجَالَهُم بِٱلۡخَيۡرِ لَقُضِيَ إِلَيۡهِمۡ أَجَلُهُمۡۖ فَنَذَرُ ٱلَّذِينَ لَا يَرۡجُونَ لِقَآءَنَا فِي طُغۡيَٰنِهِمۡ يَعۡمَهُونَ
Urdu (Syed Abul A’la Maududi)
اگر کہیں اللہ لوگوں کے ساتھ برا معاملہ کرنے میں بھی اتنی ہی جلدی کرتا جتنی وہ دنیا کی بھلائی مانگنے میں جلدی کرتے ہیں تو ان کی مہلت عمل کبھی کی ختم کر دی گئی ہوتی (مگر ہمارا یہ طریقہ نہیں ہے) اس لیے ہم اُن لوگوں کو جو ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے اُن کی سرکشی میں بھٹکنے کے لیے چھُوٹ دے دیتے ہیں
English (Sahih International)
And if Allah was to hasten for the people the evil [they invoke] as He hastens for them the good, their term would have been ended for them. But We leave the ones who do not expect the meeting with Us, in their transgression, wandering blindly
Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)
آیت 11 وَلَوْ یُعَجِّلُ اللّٰہُ للنَّاس الشَّرَّ اسْتِعْجَالَہُمْ بالْخَیْرِ ”اور اگر اللہ جلدی کردیتا لوگوں کے لیے شر ‘ جیسے کہ وہ جلدی چاہتے ہیں خیر“انسان جلد باز ہے ‘ وہ چاہتا ہے کہ اس کی کوششوں کے نتائج جلد از جلد اس کے سامنے آجائیں۔ مگر اللہ تو بڑا حکیم ہے ‘ اس نے ہر کام اور ہر واقعہ کے لیے اپنی مشیت اور حکمت کے مطابق وقت مقرر کر رکھا ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کہ کس کام میں خیر ہے اور کس میں خیر نہیں ہے۔ اگر اللہ انسان کی غلطیوں اور برائیوں کے بدلے اور نتائج بھی فوراً ہی ان کے سامنے رکھ دیا کرتا اور ان کے جرائم کی سزائیں بھی فوراً ہی ان کو دے دیا کرتا تو :لَقُضِیَ اِلَیْہِمْ اَجَلُہُمْ ط ”ان کی اجل پوری ہوچکی ہوتی“یعنی ان کی مہلت عمر کبھی کی ختم ہوچکی ہوتی۔فَنَذَرُ الَّذِیْنَ لاَ یَرْجُوْنَ لِقَآءَ نَا فِیْ طُغْیَانِہِمْ یَعْمَہُوْنَ ”پھر ہم ان لوگوں کو چھوڑ دیں گے جو ہم سے ملاقات کے امیدوار نہیں ‘ کہ وہ اپنی سرکشی میں اندھے ہو کر بڑھتے چلے جائیں۔“پھر وہی بات دہرائی گئی ہے۔ اس انداز میں ایک شان استغناء ہے کہ اگر وہ ہمیں ملنے کے امیدوار نہیں تو ہماری نظر التفات کو بھی ان سے کوئی دلچسپی نہیں۔
Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)
گھوڑا ایک نہایت وفادار جانور ہے۔ وہ اپنے مالک کے لیے اپنے آپ کو آخری حد تک قربان کردیتا ہے، حتی کہ جنگ کے میدان میں بھی وہ اپنے مالک کا ساتھ نہیں چھوڑتا۔ یہ گویا ایک علامتی مثال ہے جو انسان کو بتاتی ہے کہ اسے کیسا بننا چاہيے۔ انسان کو بھی اپنے رب کا اسی طرح وفادار بننا چاہيے جیسا کہ گھوڑا انسان کا وفادار ہوتا ہے۔ مگر عملاً ایسا نہیں۔
اس دنیا میں جانور اپنے مالک کا شکر گزار ہے مگر انسان اپنے رب کا شکر گزار نہیں یہاں جانور اپنے مالک کا حق پہچانتا ہے مگر انسان اپنے رب کا حق نہیں پہچانتا۔ یہاں جانور اپنے مالک کی اطاعت میں سرگرم ہے۔ مگر انسان اپنے رب کی اطاعت میں سرگرم نہیں۔
انسان اسی جانور کی قدر کرتا ہے جو اس کا وفادار ہو۔ پھر کیسے ممکن ہے کہ وہ اس راز کو نہ جانے کہ خدا کے یہاں وہی انسان قابلِ قدر ٹھہرے گا جو خدا کی نظر میں اس کا وفادار ثابت ہو۔ مگر مال کی محبت اس کو اندھا بنا دیتی ہے۔ وہ ایک ایسی حقیقت کو جاننے سے محروم رہتا ہے جس کا وہ خود اپنے قریبی حالات میں تجربہ کرچکا تھا۔