Recitation (Mishary Rashid Alafasy)

Next 10:2


Arabic

بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

الٓرۚ تِلۡكَ ءَايَٰتُ ٱلۡكِتَٰبِ ٱلۡحَكِيمِ


Urdu (Syed Abul A’la Maududi)

ا ل ر، یہ اُس کتاب کی آیات ہیں جو حکمت و دانش سے لبریز ہے


English (Sahih International)

Alif, Lam, Ra. These are the verses of the wise Book


Tafsir — Bayan ul Quran (Dr. Israr Ahmad)

یہ حروف مقطعات ہیں۔ یہاں پر ایک قابل ذکر نکتہ یہ ہے کہ اس سے پہلے سورة البقرۃ ‘ سورة آل عمران اور سورة الاعراف تین سورتوں کا آغاز حروف مقطعات اآآّ ‘ ا آمآآ سے ہوتا ہے اور ان تینوں مقامات پر حروف مقطعات پر آیت مکمل ہوجاتی ہے ‘ مگر یہاں ان حروف پر آیت مکمل نہیں ہورہی ہے ‘ بلکہ یہ پہلی آیت کا حصہ ہیں۔ بہر حال یہ توقیفی امور حضور ﷺ کے بتانے پر موقوف ہیں۔ گرائمر ‘ منطق ‘ نحو ‘ بیان وغیرہ کے کسی اصول یا قاعدے کو یہاں دخل نہیں ہے۔ تِلْکَ اٰیٰتُ الْکِتٰبِ الْحَکِیْمِ ”یہ بڑی حکمت بھری کتاب کی آیات ہیں۔“


Tafsir — Tazkirul Quran (Maulana Wahiduddin Khan)

This commentary covers ayaat 1 and 2.

پیغمبر کا کلام انتہائی محکم دلائل پر مبنی ہوتاہے۔ وہ اپنے غیر معمولی انداز کی بنا پر خود اس بات کا ثبوت ہوتاہے کہ وہ خدا کی طرف سے بول رہا ہے۔ اس کے باوجود ہر زمانہ میں لوگوں نے پیغمبر کا انکار کیا۔ اس کی وجہ انسان کی ظاہر پرستی ہے۔ پیغمبر اپنے معاصرین کی نظر میں عام انسانوں کی طرح بس ایک انسان ہوتاہے۔ اس کے گرد ابھی عظمت کی وہ تاریخ جمع نہیں ہوتی جو بعد کے زمانہ میں اس کے نام کے ساتھ وابستہ ہوجاتی ہے۔ اس لیے پیغمبر کے زمانہ کے لوگ پیغمبر کو محض ایک انسان سمجھ کر نظر اندازکردیتے ہیں۔ وہ پیغمبر کو نہ خدا کے بھیجے ہوئے کی حیثیت میں دیکھ پاتے اور نہ مستقبل میں بننے والی تاریخ کے اعتبار سے اس کا اندازہ کرپاتے جب کہ ہر آدمی اس کی پیغمبرانہ عظمت کو ماننے پر مجبور ہوگا۔

پیغمبر کا کلام سراپا اعجاز ہوتاہے جو سننے والوں کو بے دلیل کردیتاہے۔ مگر منکرین اس کی اہمیت کو گھٹانے کے لیے یہ کہہ دیتے ہیں کہ یہ ادبی ساحری ہے۔ وہ دلیل کے میدان میں اپنے آپ کو عاجز پاکر اس کے اوپر عیب لگانے لگتے ہیں۔ اس طرح وہ پیغمبر کے کلام کی صداقت کو مشتبہ کرتے ہیں۔ پیغمبر کا کلام جن لوگوں کو مفتوح کررہا تھا ان کے بارے میں یہ تاثر دیتے ہیں کہ وہ محض سادگی میں پڑے ہوئے ہیں، ورنہ یہ سارا معاملہ الفاظ کے فریب کے سوا اور کچھ نہیں۔ یہ زبان کی جادوگری ہے، نہ کہ کوئی واقعی اہمیت کی چیز۔

پیغمبر کا اصل مشن انذار وتبشیر ہے۔ یعنی خدا کی پکڑ سے ڈرانا اور جو لوگ خدا سے ڈر کر دنیا میں رہنے کے لیے تیار ہوں، ان کو جنت کی خوش خبری دینا۔ پیغمبر اس ليے آتاہے کہ لوگوں کو اس حقیقتِ واقعہ سے آگاہ کردے کہ آدمی اس دنیا میں آزاد اور خود مختار نہیں ہے اور نہ زندگی کا قصہ آدمی کی موت کے ساتھ ختم ہوجانے والا ہے۔ بلکہ موت کے بعد ابدی زندگی ہے اور آدمی کو سب سے زیادہ اسی کی فکرکرني چاہیے۔ جو شخص غفلت برتے گا یا سرکشی کرے گا وہ موت کے بعد کی دنیا میں اس حال میں پہنچے گا کہ وہاں اس کے لیے دکھ کے سوا اور کچھ نہ ہوگا۔

ظاہر پرست انسان ہمیشہ یہ سمجھتا رہا ہے کہ عزت اور ترقی اس شخص کے لیے ہے، جس کے پاس دنیا کا اقتدار ہے، جو دنیا کی دولت کا مالک ہے۔ پیغمبر بتاتا ہے کہ یہ سراسر دھوکا ہے۔ یہ عزت وترقی تو وہ ہے جو موجودہ عارضی زندگی میں انسانوں کے درمیان ملتی ہے۔ مگر عزت اور ترقی دراصل وہ ہے جو مستقل زندگی میں خدا کے یہاں حاصل ہو۔ وہی عزت وترقی حقیقی ہے اور اسی کے ساتھ دائمی بھی۔


Connections

  • Previous: (Start of Surah)
  • Next: 10_2
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes