Recitation

Next: 9_93


Arabic

وَلَا عَلَى ٱلَّذِينَ إِذَا مَآ أَتَوۡكَ لِتَحۡمِلَهُمۡ قُلۡتَ لَآ أَجِدُ مَآ أَحۡمِلُكُمۡ عَلَيۡهِ تَوَلَّواْ وَّأَعۡيُنُهُمۡ تَفِيضُ مِنَ ٱلدَّمۡعِ حَزَنًا أَلَّا يَجِدُواْ مَا يُنفِقُونَ


Urdu

اسی طرح اُن لوگوں پر بھی کوئی اعتراض کا موقع نہیں ہے جنہوں نے خود آ کر تم سے درخواست کی تھی کہ ہمارے لیے سواریاں بہم پہنچائی جائیں، اور جب تم نے کہا کہ میں تمہارے لیے سواریوں کا انتظام نہیں کرسکتا تو وہ مجبوراً واپس گئے اور حال یہ تھا کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے اور انہیں اس بات کا بڑا رنج تھا کہ وہ اپنے خرچ پر شریک جہاد ہونے کی مقدرت نہیں رکھتے


English

Nor [is there blame] upon those who, when they came to you that you might give them mounts, you said, “I can find nothing for you to ride upon.” They turned back while their eyes overflowed with tears out of grief that they could not find something to spend [for the cause of Allah]


Tafsir — Bayan ul Quran

دعوتِ دین کی جدوجہد جب لوگوں سے ان کی زندگی اور ان کے مال کا تقاضا کررہی ہو اس وقت صاحبِ استطاعت ہونے کے باوجود عذر کرکے بیٹھ رہنا بدترین جرم ہے۔ یہ دینی پکار کے معاملہ میں بے حسی کا ثبوت ہے۔ ایک مسلمان کے ليے اس قسم کا رویہ خدا اور رسول سے غداری کرنے کے ہم معنی ہے۔ ایسے لوگ خدا کی رحمتوں میں کوئی حصہ پانے کے حقدار نہیں ہیں ۔ ان کے پاس جو کچھ تھا اس کو جب انھوں نے خدا کے ليے پیش نہیں کیا تو خدا کے پاس جو کچھ ہے وہ کس ليے انھیں دے دے گا۔ قیمت ادا كيے بغیر کوئی چیز کسی کو نہیں مل سکتی۔ تاہم معذورین کے ليے خدا کے یہاں معافی ہے۔ جو شخص بیمار ہو، جس کے پاس خرچ کرنے کے ليے کچھ نہ ہو، جو اسباب سفر نہ رکھتاہو، ایسے لوگوں سے خدا در گزر فرمائے گا۔ یہی نہیں بلکہ یہ بھی ممکن ہے کہ کچھ نہ کرنے کے باوجود سب کچھ ان كے خانہ ميں لکھ دیا جائے جیسا کہ حدیث میں آیا ہے کہ غزوۂ تبوک سے واپس ہوتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا: مدینہ کچھ میں کچھ ایسے لوگ ہیں کہ تم کوئی راستہ نہیں چلے اور تم نے کوئی وادی طے نہیں کی مگر وہ برابر تمھارے ساتھ رہے (إِنَّ بِالْمَدِينَةِ أَقْوَامًا، مَا سِرْتُمْ مَسِيرًا، وَلاَ قَطَعْتُمْ وَادِيًا إِلَّا كَانُوا مَعَكُمْ )صحیح البخاری، حدیث نمبر 4423۔ یہ خوش قسمت لوگ کون ہیں جو نہ کرنے کے باوجود کرنے کا انعام پاتے ہیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو معذور ہونے کے ساتھ تین باتوں کا ثبوت دیں — نصح، یعنی عملی شرکت نہ کرتے ہوئے بھی قلبی شرکت۔ احسان، یعنی عدم شرکت کے باوجود کم از کم زبان سے ان کے بس میں جو کچھ ہے اس کو پوری طرح کرتے رہنا۔ حزن، یعنی اپنی کوتاہی پر اتنا شدید رنج جو آنسوؤں کی صورت میں بہہ پڑے۔ کوئی آدمی جب اپنی عملی زندگی میں ایک چیز کو غیر اہم درجہ میں رکھے اور بار بار ایسا کرتا رہے تو اس کے بعد ایسا ہوتا ہے کہ اس چیز کی اہمیت کا احساس اس کے دل سے نکل جاتا ہے۔ اس چیز کے تقاضے اس کے سامنے آتے هيں مگر دل کے اندر اس کے بارے میں تڑپ نہ ہونے کی وجہ سے وہ اس کی طرف بڑھ نہیں پاتا۔ یہ وہی چیز ہے جس کو بے حسی کہاجاتا ہے اور اسی کو قرآن میں دلوں پر مہر کرنے سے تعبیر کیاگیا ہے۔


Connections

  • Previous: 9_91
  • Next: 9_93
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes