Recitation

Next: 9_75


Arabic

يَحۡلِفُونَ بِٱللَّهِ مَا قَالُواْ وَلَقَدۡ قَالُواْ كَلِمَةَ ٱلۡكُفۡرِ وَكَفَرُواْ بَعۡدَ إِسۡلَٰمِهِمۡ وَهَمُّواْ بِمَا لَمۡ يَنَالُواْۚ وَمَا نَقَمُوٓاْ إِلَّآ أَنۡ أَغۡنَىٰهُمُ ٱللَّهُ وَرَسُولُهُۥ مِن فَضۡلِهِۦۚ فَإِن يَتُوبُواْ يَكُ خَيۡرٗا لَّهُمۡۖ وَإِن يَتَوَلَّوۡاْ يُعَذِّبۡهُمُ ٱللَّهُ عَذَابًا أَلِيمٗا فِي ٱلدُّنۡيَا وَٱلۡأٓخِرَةِۚ وَمَا لَهُمۡ فِي ٱلۡأَرۡضِ مِن وَلِيّٖ وَلَا نَصِيرٖ


Urdu

یہ لوگ خدا کی قسم کھا کھا کر کہتے ہیں کہ ہم نے وہ بات نہیں کہی، حالانکہ انہوں نے ضرور وہ کافرانہ بات کہی ہے وہ اسلام لانے کے بعد کفر کے مرتکب ہوئے اور انہوں نے وہ کچھ کرنے کا ارادہ کیا جسے کر نہ سکے یہ ان کا سارا غصہ اسی بات پر ہے نا کہ اللہ اور اس کے رسول نے اپنے فضل سے ان کو غنی کر دیا ہے! اب اگر یہ اپنی اس روش سے باز آ جائیں تو انہی کے لیے بہتر ہے اور اگر یہ باز نہ آئے تو اللہ ان کو نہایت درد ناک سزا دے گا، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، اور زمین میں کوئی نہیں جو اِن کا حمایتی اور مددگار ہو


English

They swear by Allah that they did not say [anything against the Prophet] while they had said the word of disbelief and disbelieved after their [pretense of] Islam and planned that which they were not to attain. And they were not resentful except [for the fact] that Allah and His Messenger had enriched them of His bounty. So if they repent, it is better for them; but if they turn away, Allah will punish them with a painful punishment in this world and the Hereafter. And there will not be for them on earth any protector or helper


Tafsir — Bayan ul Quran

ایک روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تقریباً 80 منافقین مدینہ میں موجود تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ منافقین سے جس جہاد کا حکم دیاگیا ہے، وہ جنگ کے معنی میں نہیں ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو آپ ان منافقین کا خاتمہ کرا دیتے۔ اس سے مراد دراصل وہ جہاد ہے جو زبان اور برتاؤ اور شدت احتساب کے ذریعہ کیا جاتاہے:وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:أُمِرَ بِالْجِهَادِ…مَعَ الْمُنَافِقِينَ بِاللِّسَانِ وَشِدَّةِ الزَّجْرِ وَالتَّغْلِيظِ (تفسیر القرطبی، جلد8، صفحہ 204 )۔ چنانچہ جمہور امت کے نزدیک منافقین کے مقابلہ میں جہاد بالسیف مشروع نہیں ہے۔ منافقت یہ ہے کہ آدمی اسلام کو اس طرح اختیار کرے کہ وہ اس کو مفادات اور مصلحتوں کے تابع كيے هوئے ہو۔ اس قسم کے لوگ جب دیکھتے ہیں کہ کچھ خدا کے بندے غیر مصلحت پرستانہ انداز میں اسلام کو اختیار کیے ہوئے ہیں اور اس کی طرف لوگوں کو دعوت دیتے ہیں تو ایسا اسلام انھیں اپنے اسلام کو بے وقعت ثابت کرتا ہوا نظر آتاہے۔ ایسے داعیوں سے انھیں سخت نفرت ہوجاتی ہے۔ وہ ان کو اکھاڑنے کے درپے ہوجاتے ہیں ۔ جس اسلام کے نام پر وہ اپنی تجارتیں قائم کرتے ہیں اسی اسلام کے داعیوں کے وہ دشمن بن جاتے ہیں ۔ منافقین کی یہ دشمنی سازش اور استہزاء کے انداز میں ظاہر ہوتی ہے۔ اگر وہ کسی کو دیکھتے ہیں کہ اس کے اندر کسی وجہ سے سچے اسلام کے داعیوں کے بارے میں مخالفانہ جذبات ہیں تو وہ اس کو ابھارتے ہیں تاکہ وہ ان سے لڑ جائیں ۔ وہ مخلص اہلِ ایمان کا مذاق اڑاتے ہیں ۔ وہ ایسی باتیں کہتے ہیں جس سے ان کی قربانیاں بے حقیقت معلوم ہونے لگیں ۔ وہ ان کی معمولی باتوں کو اس طرح بگاڑ کر پیش کرتے ہیں کہ عوام میں ان کی تصویر خراب ہو جائے۔ تبوک کے سفر میں ایک بار ایسا ہوا کہ ایک پڑاؤ کے مقام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی گم ہوگئی۔ کچھ مسلمان اس کو تلاش کرنے کے ليے نکلے۔ یہ بات منافقوں کو معلوم ہوئی تو انھوں نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا: یہ صاحب ہم کو آسمان کی خبریں بتاتے ہیں ۔ مگر ان کو اپنی اونٹنی کی خبر نہیں کہ وہ اس وقت کہاں ہے۔ منافق مسلمان سچے اسلام کے داعیوں کو ناکام کرنے کے ليے شیطان کے آلۂ کار بنتے ہیں ۔ مگر سچے اسلام کے داعیوں کا مدد گار ہمیشہ خدا ہوتاہے۔ وہ منافقوں کی تمام سازشوں کے باوجود ان کو بچا لیتاہے۔ اور منافقین کا انجام یہ ہوتاہے کہ وہ اپنے جرم ثابت کرکے اس کے مستحق بنتے ہیں کہ ان کو دنیا میں بھی عذاب دیا جائے اور آخرت میں بھی۔


Connections

  • Previous: 9_73
  • Next: 9_75
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes