Recitation

Next: 9_66


Arabic

وَلَئِن سَأَلۡتَهُمۡ لَيَقُولُنَّ إِنَّمَا كُنَّا نَخُوضُ وَنَلۡعَبُۚ قُلۡ أَبِٱللَّهِ وَءَايَٰتِهِۦ وَرَسُولِهِۦ كُنتُمۡ تَسۡتَهۡزِءُونَ


Urdu

اگر ان سے پوچھو کہ تم کیا باتیں کر رہے تھے، تو جھٹ کہہ دیں گے کہ ہم تو ہنسی مذاق اور دل لگی کر رہے تھے ان سے کہو، “کیا تمہاری ہنسی دل لگی اللہ اور اُس کی آیات اور اس کے رسول ہی کے ساتھ تھی؟


English

And if you ask them, they will surely say, “We were only conversing and playing.” Say, “Is it Allah and His verses and His Messenger that you were mocking


Tafsir — Bayan ul Quran

غزوہ تبوک کے موقع پر مدینہ میں یہ فضا تھی کہ جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے وہ ارباب عزیمت شمار ہورہے تھے اور جو لوگ اپنے گھروں میں بیٹھ رہے تھے وہ منافق اور پست ہمت سمجھے جاتے تھے۔ بیٹھ رہنے والے منافقین نے رسول اور اصحابِ رسول کے عمل كو کم تر ظاہر کرنے کے ليے ان کا مذاق اڑانا شروع کیا۔ کسی نے کہا: یہ قرآن پڑھنے والے ہمیں تواس کے سوا کچھ اور نظر نہیں آتے کہ وہ ہم میں سب سے زیادہ بھوکے ہیں ، ہم میں سب سے زیادہ جھوٹے ہیں ۔ اور ہم میں سب سے زیادہ بز دل ہیں :مَا أَرَى قُرّاءنا هَؤُلَاءِ إِلَّا أَرْغَبَنَا بُطُونًا، وَأَكْذَبَنَا أَلْسِنَةً، وَأَجْبَنَنَا عِنْدَ اللِّقَاءِ(تفسیر ابن کثیر، جلد4، صفحہ 171 )کسی نے کہا: کیا تم سمجھتے ہو کہ رومیوں سے لڑنا بھی ویسا ہی ہے جیسا عربوں کا آپس میں لڑنا۔ خدا کی قسم کل یہ سب لوگ رسیوں میں باندھے ہوئے نظرآئیں گے( أَتَحْسِبُونَ جَلَّادَ بَنِي الْأَصْفَرِ كَقِتَالِ الْعَرَبِ بَعْضُهُمْ بَعْضًا! وَاَللَّهِ لَكَأَنَّا بِكَمْ غَدًا مُقَرَّنِينَ فِي الْحِبَالِ )سیرت ابن ہشام، جلد2، صفحہ 525 ۔کسی نے کہا: یہ صاحب سمجھتے ہیں کہ وہ روم کے محل اور ان کے قلعے فتح کرنے جارہے ہیں ، ان کی حالت پر افسوس ہے (يَظُنُّ هَذَا أَنْ يَفْتَحَ قُصُورَ الرُّومِ وَحُصُونَهَا. هَيْهَاتَ هَيْهَاتَ (تفسیر ابن کثیر، جلد4، صفحہ 172 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ نے ان لوگوں کو بلا کر پوچھا۔ وہ کہنے لگے: ہم تو صرف ہنسی کھیل کی باتیں کررہے تھے (إِنَّمَا كُنَّا نَخُوضُ وَنَلْعَبُ( تفسیر ابن کثیر، جلد4، صفحہ 171 ۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: کیا اللہ اور اس کے احکام اور اس کے رسول کے معاملہ میں تم ہنسی کھیل کررہے تھے۔ اللہ اور رسول کی بات ہمیشہ کسی آدمی کی زبان سے بلند ہوتی ہے۔ یہ آدمی اگر دیکھنے والوں کی نظر میں بظاہر معمولی ہو تو وہ اس کا استہزاء کرنے لگتے ہیں ۔ مگر یہ استہزاء اس آدمی کا نہیں ہے خود خدا کا ہے۔ جو لوگ ایسا کریں وہ صرف یہ بات ثابت کرتے ہیں کہ وہ خدا کے دین کے بارے میں سنجیدہ نہیں ہیں ۔ ایسے لوگ خدا کی نظر میں سخت مجرم ہیں ، ان کی جھوٹی تاویلیں ان کی حقیقت کو چھپانے میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتیں ۔ نفاق اور ارتداد دونوں ایک ہی حقیقت کی دو صورتیں ہیں ۔آدمی اگر اسلام اختیار کرنے کے بعد کھلم کھلا منکر ہوجائے تو یہ ارتداد ہے۔ اور اگر ایسا ہو کہ ذہن اور قلب کے اعتبار سے وہ اسلام سے دور ہو مگر لوگوں کے سامنے وہ اپنے کو مسلمان ظاہر کرے تو یہ نفاق ہے۔ ایسے منافقین کا انجام خدا کے یہاں وہی ہے جو مرتدین کا ہے، إلاّ یہ کہ وہ مرنے سے پہلے اپنی غلطیوں کا اقرار کرکے اپنی اصلاح کرلیں ۔


Connections

  • Previous: 9_64
  • Next: 9_66
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes