Recitation

Next: 9_37


Arabic

إِنَّ عِدَّةَ ٱلشُّهُورِ عِندَ ٱللَّهِ ٱثۡنَا عَشَرَ شَهۡرٗا فِي كِتَٰبِ ٱللَّهِ يَوۡمَ خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ مِنۡهَآ أَرۡبَعَةٌ حُرُمٞۚ ذَٰلِكَ ٱلدِّينُ ٱلۡقَيِّمُۚ فَلَا تَظۡلِمُواْ فِيهِنَّ أَنفُسَكُمۡۚ وَقَٰتِلُواْ ٱلۡمُشۡرِكِينَ كَآفَّةٗ كَمَا يُقَٰتِلُونَكُمۡ كَآفَّةٗۚ وَٱعۡلَمُوٓاْ أَنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلۡمُتَّقِينَ


Urdu

حقیقت یہ ہے کہ مہینوں کی تعداد جب سے اللہ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا ہے اللہ کے نوشتے میں بارہ ہی ہے، اور ان میں سے چار مہینے حرام ہیں یہی ٹھیک ضابطہ ہے لہٰذا ان چار مہینوں میں اپنے اوپر ظلم نہ کرو اور مشرکوں سے سب مل کر لڑو جس طرح وہ سب مل کر تم سے لڑتے ہیں اور جان رکھو کہ اللہ متقیوں ہی کے ساتھ ہے


English

Indeed, the number of months with Allah is twelve [lunar] months in the register of Allah [from] the day He created the heavens and the earth; of these, four are sacred. That is the correct religion, so do not wrong yourselves during them. And fight against the disbelievers collectively as they fight against you collectively. And know that Allah is with the righteous [who fear Him]


Tafsir — Bayan ul Quran

دینی احکام پر ہر شخص الگ الگ بھی عمل کرسکتا ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ کو یہ مطلوب ہے کہ تمام اہل ایمان ایک ساتھ ان پر عمل کریں تا کہ ان میں اجتماعیت پیدا ہو۔ اسی اجتماعیت کے مقصد کو حاصل کرنے کی خاطر عبادات کی ادائیگی کے ليے متعین اوقات اور تاریخیں مقرر کی گئی ہیں ۔ یہ تاریخیں اگر شمسی کیلنڈر کے اعتبار سے رکھی جائیں تو ان کے زمانہ میں یکسانیت آجاتی ۔ مثلاً روزہ ہمیشہ ایک موسم میں آتا اور حج ہمیشہ ایک موسم میں ۔ مگر یکسانیت آدمی کے اندر جمود پیدا کرتی ہے اور تبدیلی سے نئی قوت عمل بیدار ہوتی ہے۔ اس بنا پر دینی امور کے اجتماعی نظام کے ليے چاند کا قدرتی کیلنڈر اختیار کیا گیا۔ اسی اصول کی وجہ سے حج کی تاریخیں مختلف موسموں میں آتی ہیں ، کبھی سردیوں میں اور کبھی گرمیوں میں ۔ قدیم زمانہ میں جب کہ حج کا اجتماع زبردست تجارتی اہمیت رکھتا تھا۔ مختلف موسموں میں حج کا آنا تجارتی اعتبار سے مضر معلوم ہوا۔ اہل عرب کو دینی مصلحتوں کے مقابلہ میں دنيوی مصلحتیں زیادہ اہم نظر آئیں ۔ انہوں نے چاہا کہ ایسی صورت اختیار کریں کہ حج کی تاریخ ہمیشہ ایک ہی موافق موسم میں پڑے۔ اس موقع پر یہودو نصاریٰ کا کبیسہ کاحساب ان کے علم میں آیا۔ اپنی خواہشوں کے عین مطابق ہونے کی وجہ سے وہ ان کو پسند آگیا اور انہوں نےاس کو اپنے یہاں رائج کرلیا۔ یعنی مہینو ں کو ہٹا کر ایک کی جگہ دوسرے کو رکھ دینا۔ مثلاً محرم کو صفر کی جگہ کردینا اور صفر کو محرم کی جگہ۔ نسئی کے اس طریقے سے اہل عرب کو دو فائدے ہوئے۔ ایک یہ کہ حج کے موسم کو تجارتی تقاضے کے مطابق کرلینا۔ دوسرے یہ کہ حرام مہینوں ( محرم، رجب، ذو القعدہ، ذو الحجہ) میں کسی کے خلاف لڑائی چھیڑنا ہو تو حرام مہینہ کی جگہ غیر حرام مہینہ رکھ کر لڑائی کو جائز كرلینا۔ اہل عرب کے سامنے حضرت ابراہیم کا طریقہ بھی تھا۔ مگر ان کے ذہن پر چونکہ تجارتی مقاصد اور قبائلی تقاضوں کا غلبہ تھا۔ اس ليے ان کونسئی کا طریقہ زیادہ اچھا معلوم ہوا اور انہوں نے اپنے معاملات کے ليے اس کو اختیار کرلیا۔ ’’تم بھی مل کر لڑو جس طرح وہ مل کر لڑتے ہیں ‘‘۔اس کا مطلب یہ ہے کہ کافر لوگ خدا سے بے خوفی پر متحد ہوجاتے ہیں ، تم خدا سے خوف ( تقویٰ) پر متحد ہوجاؤ۔ وہ منفی مقاصد کے ليے باہم جڑ جاتے ہیں تم مثبت مقاصد کے ليے آپس میں جڑجاؤ۔ وہ دنیا کی خاطر ایک ہوجاتے ہیں تم آخرت کی خاطر ایک ہوجاؤ۔


Connections

  • Previous: 9_35
  • Next: 9_37
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes