Recitation
Next: 9_32
Arabic
ٱتَّخَذُوٓاْ أَحۡبَارَهُمۡ وَرُهۡبَٰنَهُمۡ أَرۡبَابٗا مِّن دُونِ ٱللَّهِ وَٱلۡمَسِيحَ ٱبۡنَ مَرۡيَمَ وَمَآ أُمِرُوٓاْ إِلَّا لِيَعۡبُدُوٓاْ إِلَٰهٗا وَٰحِدٗاۖ لَّآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَۚ سُبۡحَٰنَهُۥ عَمَّا يُشۡرِكُونَ
Urdu
انہوں نے اپنے علماء اور درویشوں کو اللہ کے سوا اپنا رب بنا لیا ہے اور اسی طرح مسیح ابن مریم کو بھی حالانکہ ان کو ایک معبود کے سوا کسی کی بندگی کرنے کا حکم نہیں دیا گیا تھا، وہ جس کے سوا کوئی مستحق عبادت نہیں، پاک ہے وہ ان مشرکانہ باتوں سے جو یہ لوگ کرتے ہیں
English
They have taken their scholars and monks as lords besides Allah, and [also] the Messiah, the son of Mary. And they were not commanded except to worship one God; there is no deity except Him. Exalted is He above whatever they associate with Him
Tafsir — Bayan ul Quran
ایمان زندہ ہو تو آدمی ہر واقعہ کو خدا کی طرف منسوب كرتا هے۔ وه كسي چيز كو صرف اس وقت سمجھ پاتا هے جب كه خدا كي نسبت سے اس کے بارے میں رائے قائم کرلے۔ وہ پھول کی خوشبو کو اس وقت سمجھتا ہے جب کہ اس میں اسے خدا کی مہک مل جائے۔ وہ سورج کو اس وقت دریافت کرتاہے جب کہ وہ اس کے معطی کو معلوم کرلے۔ ہر بڑائی اس کو خدا کا عطیہ نظر آتی ہے۔ ہر خوبی اس کو خدا کا احسان یاد دلاتی ہے۔ اس کے برعکس، اگر خدا سے آدمی کا تعلق گھٹ کر صرف موہوم عقیدہ کے درجہ پر آجائے تو خدا اس کے زندہ شعور کے ليے ایک لامعلوم چیز بن جائے گا۔ وہ دنیا کی نظر آنے والی چیزوں پر خدا کو قیاس کرنے لگے گا۔ دوسری قسم کے لوگ طبعی طورپر خالق کو ان دنیوی چیزوں کی نظر سے دیکھنے لگتے ہیں جن کو وہ جانتے ہیں ۔ وہ خالق کو مخلوق کی سطح پر اتارلاتے ہیں ۔ یہی حال یہود ونصاریٰ کا اپنے بگاڑ کے زمانے میں ہوا۔ اب خدا ان کے یہاں موہوم معتقدات کے خانہ میں چلا گیا۔ چنانچہ وہ اپنے نظر آنے والے اکابر اور بزرگوں کو وہ درجہ دینے لگے جو درجہ خدائے عالم الغیب کو دینا چاہیے۔ انھوں نے دیکھا کہ یونانی اور رومی قومیں سورج کو خدا بنا کر اس کے ليے بیٹا فرض كيے ہوئے ہیں تو ان کو بھی اپنے بزرگوں کے لیے یہی سب سے اونچا لفظ نظر آیا۔ انھوں نے اپنی آسمانی کتابوں میں ، اب اور ابن کے الفاظ کی خودساختہ تشریح کرکے خدا کو باپ اور اپنے پیغمبر کو اس کا بیٹا کہنا شروع کردیا۔ حالاں کہ خدا صرف ایک ہی ہے، وہ ہر مشابہت سے پاک ہے، وہی تنہا اس کا مستحق ہے کہ اس کو بڑا بنایا جائے اور اس کی عبادت کی جائے۔ رسول اللہ کے خلاف جارحیت کرنے والے مشرکین (بنو اسماعیل) بھی تھے اور اہلِ کتاب (بنو اسرائیل) بھی۔ مگر دونوں کے ساتھ الگ الگ معاملہ کیاگیا۔ مشرکین کے ساتھ جنگ یا اسلام کا اصول اختیار کیاگیا۔ مگر اہلِ کتاب کے لیے حکم ہوا کہ اگر وہ جزیہ (سیاسی اطاعت) پر راضی ہوجائیں تو انھیں چھوڑ دو۔ اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ مشرکین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصلاً مخاطب تھے اور اہلِ کتاب تبعاً۔ اللہ کی سنت یہ ہے کہ جس قوم پر پیغمبر کے ذریعہ براہِ راست دعوت پہنچائی جاتی ہے اس سے اتمام حجت کے بعد زندگی کا حق چھین لیا جاتا ہے۔ ٹھيك ويسے هي جيسے كسي رياست ميں ايك شخص كے باغي ثابت هونے كے بعد اس سے زندگي كاحق چھين ليا جاتا هے۔ مگر جہاں تک دوسرے گروہوں کا تعلق ہے ان کے ساتھ وہی سیاسی معاملہ کیا جاتا ہے جو عام بین اقوامی اصول کے مطابق درست ہو۔